مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 919
919 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح کے صریح خلاف ہوگا۔اور اس لئے نا قابلِ قبول ہے۔اس ضمن میں یہ بھی مد نظر رہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مسیح ناصری پر اپنی فضیلت کو آيت تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (البقرۃ: ۲۵۴) کے ماتحت قرار دیا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۶) نیز آپ نے فطرتی استعدادوں کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۵) کارناموں کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو افضل بتایا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۹) پھر جلال اور قوی نشانوں کے لحاظ سے بھی اپنے آپ کو افضل قرار دیا ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۸) پھر ” معارف اور معرفت میں بھی مسیح ناصرتی پر اپنی فضیلت بتائی ہے۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۵) اور یہ بھی حضور نے فرمایا ہے کہ میرے دل پر جو خدا تعالیٰ کی تجلی ہوئی۔وہ میسج پر نہیں ہوئی۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۶) غرضیکہ نبوت کے تمام اجزاء میں آپ مسیح ناصری سے افضل ہیں حضور علیہ السلام نے نزول مسیح حاشیه صفحه ۳ تا صفحہ ۶ پر اپنے آپ میں شان نبوت بھی تسلیم فرمائی ہے۔غرضیکہ مسیح ناصری پر کلکی فضیلت حضور کی نبوت“ کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔تیسرا سوال:۔وہی وزنی پتھر ہے جو پچھلے تمہیں سال سے اہل پیغام کے مقاصد مذمومہ کے آگے سد راہ ہے اور جس کو با وجود ایڑی چوٹی کا زور لگانے سے ہلا نہیں سکے۔یعنی حقیقۃ الوحی کا صفحہ ۳۹۱۔غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس اُمت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس اُمت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیونکہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور وہ شرط اُن میں پائی نہیں جاتی۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۴۰۶ ، ۴۰۷ )