مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 54 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 54

54 کی مخلوق میں سے ہے:۔لَهُ الْخَلْقَ وَالْأَمْرُ (الاعراف: ۵۵) قُل لَّبِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنس وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُوا بِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ طهِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۹) دلیل اس کا ( روح کا ) علم ناقص ہے۔اگر قدیم سے ہوتی تو علم کامل ہوتا جیسے خدا کا علم کامل ہے۔پس ان دلائل سے حدوث ثابت ہوا۔آریوں کے اعتراضات بالکل کچے ہوتے ہیں جیسے دہریوں کے ہوتے ہیں۔دہر یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ خدا اگر ہے تو بتاؤ وہ کیا چیز ہے؟ یہی سوال ایک دفعہ ایک کمہار کے لڑکے نے کیا جس کے جواب میں کہا گیا کہ خدا چیز نہیں کیونکہ چیزوں کو تو وہ پیدا کرتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ تم سے پوچھا جاوے کہ تمہارا باپ کون سا برتن ہے۔تو تم کہو گے کہ برتن تو میرا باپ بنایا کرتا ہے۔وہ برتن نہیں۔اسی طرح خدا بھی خالق الاشیاء ہے۔دلیل نمبر ۱۵:۔ارواح و مادہ صاحب علم و ارادہ نہیں۔اگر صاحب علم وارادہ ہیں تو پھر کیوں وہ آپس میں نہیں مل جاتے اور صاحب علم وارادہ کے بغیر کوئی خلق نہیں ہوسکتی۔پس روح و مادہ مخلوق ہیں نہ کہ خود بخود۔دلیل نمبر ۱۶:۔اگر روح و مادہ مخلوق نہیں تو پھر اللہ تعالی خالق نہیں بلکہ صرف ایک معمار کی حیثیت رکھتا ہے حالانکہ یہ بات مسلمات آریہ کے خلاف ہے۔دلیل نمبر۱۷:۔جب روح و مادہ اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہیں تو پھر وہ خود بخود کیونکر ہو سکتے ہیں۔اگر کہو کہ اللہ تعالیٰ کے ماتحت ہونا ان کی فطرتی اور ذاتی صفت ہے تو ہم کہیں گے کہ پھر وہ کیوں اطاعت الہی میں تکلیف محسوس کرتی ہیں۔دلیل نمبر ۱۸:۔روحوں کا اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت رکھنا جیسے ان کو ایک بچہ سے ذاتی محبت ہوتی ہے کیونکہ اس سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔یہی صاف دلیل ہے کہ یہ اس سے نکلا ہوا ہے اور وہ صرف مخلوق ہونے کی حالت ہے۔دلیل نمبر ۱۹:۔روحوں کی اپنی کمزوری کی وجہ سے ایک عالم اور فیاض ہستی کا محتاج ہونا بھی ان کے مخلوق ہونے پر ایک زبر دست دلیل ہے۔دلیل نمبر ۲۰:۔آریہ سماج کا یہ ادعا کہ چونکہ مادہ اجزاۓ لا يتجـزای (ATOMS) کا نام ہے۔جو نا قابل تقسیم و تفریق ہیں اس لئے مادہ ازلی ہے۔موجودہ عالمگیر جنگ میں سائنس نے