مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 904 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 904

904 ج یا در ہے کہ یہ شخص ( بٹالوی) بد گوئی میں حد سے بڑھ گیا تھا۔جس شخص کو اس کی گندی تحریروں پر علم ہوگا جو میری نسبت اور میرے اہل بیت آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس شیخ ہے ادب تیز مزاج نے سراسر ظلم اور ناحق پسندی کی خصلت سے اشاعۃ السنہ میں شائع کی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ہر ایک شریف جس کی فطرت میں نقص نہ ہو۔اور جس کے نیک گوہر میں کچھ کھوٹ نہ ہو اور جس کے نجیب الطرفین ہونے میں کچھ خلل نہ ہو۔وہ کبھی اس بات پر راضی نہیں ہوگا کہ معزز شرفاء کے بارے میں اور سادات کی شان میں اور اُن پاکدامن خاتونوں کی نسبت جو خاندان نبوت میں سے اور اہل بیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ہیں ایسی گندی گالیاں اور ناپاکی سے بھرے افترا منہ پر لاوے ( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۲۷، ۳۲۸) و جن عظیم الشان لوگوں کو بڑے بڑے عظیم ذمہ داریوں کے کام ملتے ہیں اور بعض اوقات خدا تعالیٰ سے علم پا کر خضر کی طرح ایسے کام بھی اُن کو کرنے پڑتے ہیں جن سے ایک کو تہ بین شخص کی نظر میں وہ بعض اخلاقی حالتوں میں یا معاشرت کے طریقوں میں قابلِ ملامت ٹھہرتے ہیں۔اُن کے دشمنوں کی باتوں کی طرف دیکھ کر ہرگز بدظن نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اندھے دشمنوں نے کسی نبی اور رسول کو اپنی نکتہ چینی سے مستثنی نہیں رکھا۔مثلاً وہ موسیٰ مردِ خدا جس کی نسبت توریت میں آیا ہے کہ وہ زمین کے تمام باشندوں سے زیادہ تر حلیم اور امین ہے مخالفوں نے اُن پر یہ اعتراض کئے ہیں کہ گویا وہ نعوذ باللہ نہایت درجہ کا سخت دل اور خونی انسان تھا۔ایسا ہی حضرت مسیح پر بھی اُن کے دشمنوں نے اعتراض کیا ہے کہ وہ تقویٰ کے پابند نہ تھے۔۔ایسا ہی عیسائیوں نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عفت اور تقوی اور امانت پر اعتراض کئے ہیں اور ایسا ہی روافض نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی عفت اور امانت اور دیانت اور عدالت پر انواع اقسام کے عیب لگائے ہیں۔اور ایسا ہی خوارج حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فاسق قرار دیتے ہیں اور بہت سے امور خلاف تقویٰ اُن کی طرف منسوب کرتے ہیں بلکہ حلیہ ایمان سے بھی اُن کو عاری سمجھتے ہیں تو اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جبکہ صدیق کے لئے تقویٰ اور امانت اور دیانت شرط ہے تو کیوں خدا تعالیٰ نے اُن کے حالات کو عوام کی نظر میں مشتبہ کر دیا۔حالانکہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ نہ رسول ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور نہ نبی ہونے کا۔اور نہ اپنے تئیں ولی اور امام اور خلیفتہ المسلمین کہلاتے ہیں لیکن با ایں ہمہ کوئی اعتراض اُن کے چال چلن اور زندگی پر نہیں ہوتا تو اس سوال کا جواب یہ