مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 905
905 ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسا کیا کہتا اپنے خاص مقبولوں اور محبوبوں کو بد بخت شتاب کاروں سے جن کی وہ عادت بدگمانی ہے مخفی رکھے جیسا کہ خود وجود اس کا اس قسم کی بدظنی کرنے والوں سے مخفی ہے۔۔قصہ جو قرآن شریف میں حضرت آدم صفی اللہ کی نسبت مذکور ہے اپنے اندر یہ پیشگوئی مخفی رکھتا اندر یہ ہے کہ اہل کمال کی ہمیشہ نکتہ چینی ہوا کرے گی۔خدا تعالیٰ نے اسی غرض سے خضر کا قصہ بھی قرآن شریف میں لکھا ہے تا لوگوں کو معلوم ہو کہ ایک شخص ناحق خون کر کے اور یتیموں کے مال کو عمدا نقصان پہنچا کر پھر خدا تعالیٰ کے نزدیک بزرگ اور برگزیدہ ہے۔ہاں اس سوال کا جواب دینا باقی رہا کہ اس طرح پر امان اُٹھ جاتا ہے اور شریر انسانوں کے لئے ایک بہانہ ہاتھ آجاتا ہے۔اس اشکال کا جواب یہی ہے کہ ایسے اعتراضات صرف بدظنی سے پیدا ہوتے ہیں اگر کوئی حق کا طالب اور متقی طبع ہے تو اُس کے لئے مناسب طریق یہ ہے کہ ان کاموں پر اپنی رائے ظاہر نہ کرے جو متشابہات میں سے اور بطور شاذ و نادر ہیں کیونکہ شاذ نادر میں کئی وجوہ پیدا ہو سکتے ہیں اور نہیں جانتے کہ یہ متشابہات کا پہلو جو شاذ نادر ہیں۔۔کے طور پر پاک لوگوں کے وجود میں پایا جاتا ہے یہ شریر انسانوں کے امتحان کے لئے رکھا گیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اپنے پاک بندوں کا طریق اور عمل ہر ایک پہلو سے ایسا صاف اور روشن دکھلاتا کہ شریر انسان کو اعتراض کی گنجائش نہ ہوتی مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہ کیا تا وہ خبیث طبع انسانوں کا خبث ظاہر کرے۔نبیوں اور رسولوں اور اولیاء کے کارناموں میں ہزار ہا نمونے ان کی تقویٰ اور طہارت اور امانت اور دیانت اور صدق اور پاس عہد کے ہوتے ہیں اور خود خدا تعالیٰ کی تائیدات اُن کی پاک باطنی کی گواہ ہوتی ہیں۔لیکن شریر انسان ان نمونوں کو نہیں دیکھتا اور بدی کی تلاش میں رہتا ہے آخر ہلاکت کی راہ اختیار کر کے جہنم میں جاتا ہے۔“ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۲۰ تا ۴۲۵ بقیه حاشیه ) ھ۔اس اندھی دنیا میں جس قدر خدا کے ماموروں اور نبیوں اور رسولوں کی نسبت نکتہ چینیاں ہوتی ہیں اور جس قدر اُن کی شان اور اعمال کی نسبت اعتراض ہوتے ہیں اور بدگمانیاں ہوتی ہیں۔وہ دنیا میں کسی کی نسبت نہیں ہوتیں اور خدا نے ایسا ہی ارادہ کیا ہے تا اُن کو بد بخت لوگوں کی نظر سے مخفی رکھے اور وہ ان کی نظر میں جائے اعتراض ٹھہر جائیں کیونکہ وہ ایک دولت عظمیٰ ہیں اور دولت عظمیٰ کو نا اہلوں سے پوشیدہ رکھنا بہتر ہے۔اسی وجہ سے خدائے تعالیٰ اُن کو جوشقی از لی ہیں اُس برگزیدہ گروہ کی نسبت طرح طرح کے شبہات میں ڈال دیتا ہے تا وہ دولت قبول سے محروم رہ جائیں۔یہ سنت