مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 879
879 پر اس کی قوم کا نام بھی بدل جاتا ہے۔موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے یہودی کہلاتے تھے مگر جب حضرت عیسی علیہ السلام آئے تو جن یہودیوں نے ان کو مان لیا۔وہ یہودی نہ رہے بلکہ عیسائی ہو گئے۔پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو جن عیسائیوں نے حضور کے دعویٰ کو قبول کر لیا وہ عیسائی نہ رہے بلکہ مسلمان کہلانے لگے۔بعینہ اسی طرح مرزا صاحب کے ماننے والے مسلمان نہیں کہلا سکتے۔ان کو احمدی یا قادیانی کہا جائے گا کیونکہ انہوں نے ایک نیا نبی تسلیم کر لیا ہے۔یہ ہے وہ مایہ ناز اعتراض کہ جب گجرات احرار کا نفرنس منعقدہ ۳۰ نومبر ۱۹۴۹ء کے موقع پر مولوی محمد علی احراری نے اسے بیان کیا تو ” امیر شریعت احراز‘ نے اچھل اچھل کر اس نئے نکتہ پر انہیں دل کھول کر داد دی۔بلکہ یہاں تک کہا جا میں نے تجھے سارے ارمان بخش دیئے“ پھر مولوی محمد علی احراری نے ہر مقام پر یہی اعتراض دہرایا اور قریباً ہر جگہ امیر شریعت احرار نے اسی انداز میں انہیں داد علم و عقل کے ساتھ یہی ڈرامہ دہرایا۔اب آئیے ! اس اعتراض کا تجزیہ کریں اور دیکھیں اس میں کس قدر صداقت اور سچائی ہے۔پہلا مغالطہ :۔اس مزعومہ دلیل میں پہلا مغالطہ تو یہ دیا گیا ہے کہ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد پہلا نبی جو آیا وہ حضرت عیسی علیہ السلام تھے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسی علیہ السلام کے درمیان قریباً چودہ سو سال کا فاصلہ ہے اس عرصہ میں بنی اسرائیل میں ہزاروں انبیاء آئے۔حضرت یوشع بن نون ، داؤد، سلیمان جز قیل ہسموئیل ، یوئیل ،ملا کی ، ایلیاہ، میکاہ، عزراء وغیرہ ہزاروں نبی ہیں جو حضرت عیسی سے پہلے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک ہی قوم بنی اسرائیل میں آئے۔پس اگر یہ بات درست ہے! کہ قوم نبی سے بنتی ہے اور نئے نبی کے آنے سے قوم بدل جاتی ہے تو پھر مولوی محمد علی صاحب احراری اور ان کے اس نکتہ پر عش عش کر اٹھنے والے احراری امیر شریعت بتائیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے بھائی ہارون جو نبی تھے تو ان کے ذریعہ سے کونسی نئی قوم معرض وجود میں آئی تھی اور ان کے ماننے والوں کا نام کیا رکھا گیا تھا ؟ پھر ان کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہلے خلیفہ حضرت یوشع علیہ السلام بن نون کے نبی ہونے پر جونئی قوم پیدا ہوئی تھی وہ کونسی تھی ؟ اور اس کا کیا نام تھا؟ اسی طرح ان کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کے ذریعہ کونسی نئی قوم بنی تھی ! پھر ان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے کس قوم کی تشکیل فرمائی تھی ان کی قوموں کے کیا کیا نام تھے ؟ خود احراری معترض کو بھی مسلم ہے کہ موسیٰ کی قوم کا نام یہودی تھا اور یہ نام