مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 878
878 امتی اور غلام ہیں کلمہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کاہی ہے۔شریعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ہے اور مسیح موعود کا مقام صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام اور نائب کا ہے۔باپ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور مسیح موعود آپ کا روحانی فرزند ہے۔یادر ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی شرائط بیعت میں آپ کے ساتھ جس تعلق کے قیام کا عہد لیا جاتا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس عاجز سے تعلق اخوت رکھے گا۔گویا جماعت احمدیہ کے افراد کا تعلق بانی سلسلہ احمدیہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے اخوت کا ہے کیونکہ ان کا روحانی باپ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔پس اندھا ہے وہ دشمن جو یہ اعتراض کرتا ہے کہ احمدیوں کے عقائد کے رو سے دوباپ ماننے پڑتے ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ارشاد فرماتے ہیں:۔مے خانہ وہی ساقی بھی وہی پھر اس میں کہاں غیرت کا محل ہے دشمن خود بھینگا جس کو آتے ہیں نظر شمخانے دو کلام محمود صفحه ۴ ۵ انظم نمبر۹۴) پھر فرماتے ہیں:۔شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھے ( کلام محمود صفحه ۴ ۱۸ نظم نمبر ۱۳۳) ہمارا ایمان ہے کہ محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں۔اس وجہ سے آپ ابوالانبیاء یعنی تمام اگلے اور پچھلے نبیوں کے باپ ہیں قیامت تک حضور ہی کی ابوت چلے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام محض حضور کے نائب اور روحانی فرزند کا ہے۔اے کاش احراری معترضین کے دل میں خدا کا خوف ہو اور موت کا دن ان کو یاد ہو جب اس احکم الحاکمین کے سامنے حاضر ہو کر اپنے تمام اقوال و اعمال کے لیے جواب دہ ہونا ہوگا۔اس وقت یہ ”جوش خطابت “یہ زبان کی چالاکیاں اور یہ اشتعال انگیز نعرے کام نہیں آئے گی۔۳۳۔کیا نبی کے آنے سے قوم بدل جاتی ہے! مولوی محمد علی صاحب احراری بھی ایک دور کی کوڑی لائے ہیں۔آپ نے ہر مقام پر ہر احرار کانفرنس میں یہ نیا علمی نکتہ پیش کیا ہے کہ چونکہ قوم نبی سے بنتی ہے اس لیے ہر نئے نبی کے آنے