مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 781
781 اس پر اندر من مراد آبادی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔اس لئے حضور علیہ السلام نے اس کی موت کی پیشگوئی شائع نہ فرمائی۔ہاں لیکھرام نے اجازت دی۔سو اس کی موت کی چھ سالہ پیشگوئی حضور نے شائع فرما دی۔پھر جو اس کا انجام ہوا وہ سب کو معلوم ہے۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ السلام اپنے اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء میں یعنی معاہدہ عدالت سے ۱۳ سال پہلے تحریر فرماتے ہیں:۔اگر کسی صاحب پر کوئی ایسی پیشگوئی شاق گزرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ظہور سے وہ ڈرتے ہیں اندراج رسالہ سے علیحدہ رکھی جائے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر مطلع نہ کیا جاوے اور کسی کو اس کے وقتِ ظہور سے خبر نہ دی جائے۔“ (اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء و تبلیغ رسالت جلد ا صفحه ۵۸) پھر حضور عدالت ڈوئی والے معاہدہ کا ذکر کر کے فرماتے ہیں :۔یہ ایسے دستخط نہیں ہیں جن سے ہمارے کاروبار میں کچھ بھی حرج ہو بلکہ مدت ہوئی کہ میں کتاب انجام آتھم کے صفحہ اخیر میں بتفریح اشتہار دے چکا ہوں کہ ہم آئندہ ان لوگوں کو مخاطب نہیں کریں گے جب تک خود ان کی طرف سے تحریک نہ ہو بلکہ اس بارے میں ایک الہام بھی شائع کر چکا ہوں جو میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں درج ہے۔مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ ان لوگوں نے محض شرارت سے یہ بھی مشہور کیا ہے کہ اب الہام کے شائع کرنے کی ممانعت ہو گئی اور ہنسی سے کہا کہ اب الہام کے دروازے بند ہوگئے۔مگر ذرہ حیا کو کام میں لا کر سوچیں کہ اگر الہام کے دروازے بند ہو گئے تھے تو میری بعد کی تالیفات میں کیوں الہام شائع ہوئے۔اسی کتاب کو دیکھیں کہ کیا اس میں الہام کم ہیں؟“ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۴ ۳۱ حاشیه ) پھر اس معاہدہ سے چھ سال قبل حضور نے تحریر فرمایا:۔اس عاجز نے اشتہار ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء میں اند من مراد آبادی اور لیکھر ام پشا وری کو اس بات کی دعوت دی تھی کہ اگر وہ خواہشمند ہوں تو ان کی قضا و قدر کی نسبت بعض پیشگوئیاں شائع کی جائیں سو اس اشتہار کے بعد ”اندرمن“ نے تو اعراض کیا۔اور کچھ عرصہ بعد فوت ہو گیا لیکن لیکھرام نے بڑی دلیری سے ایک کارڈ اس عاجز کی طرف روانہ کیا کہ میری نسبت جو پیشگوئی چاہو شائع کر دو۔میری