مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 774 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 774

774 صحیح معنے پہلے ہی ہیں۔کیونکہ یہ سورۃ مکی ہے اور جنگ کا حکم ہجرت کے ایک لمباز مانہ بعد نازل ہوا تھا۔۹ تفسیر ابی المسعود میں آیت مندرجہ بالا کی تفسیر میں لکھا ہے:۔وَجَاهِدَهُمْ بِهِ الْقُرْآنَ بِتَلاوَةٍ مَّا فِي تَضَاعِيُفِهِ مِنَ الْقَوَارِعِ وَالزَّوَاجِرِ وَالْمَوَاعِظِ وَ تَزْكِيْرِ أَحْوَالِ الْأُمَمِ الْمُكَذِّبَةِ جِهَادًا كَبِيرًا) فَإِنَّ دَعْوَةَ كُلَّ الْعَالَمِيْنَ عَلَى الْوَجْهِ الْمَذْكُورِ جِهَادٌ كَبِيرٌ۔( تفسیر ابی السعود بر حاشیه تفسیر کبیر امام رازی جلد۵ صفحه ۲۲۵) یعنی ہم سے مراد قرآن ہے۔تو کافروں کے ساتھ جہاد کر۔یعنی قرآن مجید ان کو پڑھ کر سنا اور اس میں جو تنبیہات و عذابات ہیں ان سے اور نیز سابقہ انبیاء کی مکذب امتوں کے بد انجام کی جو خبریں ہیں ان کو سنا کر ان کو درس عبرت دے۔یہی جہاد کبیر ہے۔کیونکہ مندرجہ بالا طریق پر تمام دنیا کے لوگوں کو تبلیغ و دعوت کا کام کرنا واقعی بہت بڑا جہاد ہے۔“ ۱۰ تفسیر جلالین میں آیت بالا کے نیچے لکھا ہے:۔وَجَاهِدَهُمْ بِهِ أَى الْقُرْآنَ جِهَادًا كَبِيرًا “ ( تفسیر جلالین مع الكمالين و جامع البیان صفحه ۳۰۷ زیر آیت هو الذي مرج البحرين ناشر سعید کمپنی ادب منزل پاکستان چوک کراچی ) یعنی کافروں سے جہاد کبیر کر۔یعنی قرآن کو پیش کرنے کے ذریعہ سے۔خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ”جہاد کبیر ہی مقدر تھا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی کہ يَضَعُ الْحَرْبَ یعنی مسیح موعود آئے گا تو وہ جہاد بالسیف کو ملتوی کر دے گا۔(بخاری) چنانچہ تفسیر قادری حسینی مترجم اردو جلد ۲ صفحہ ۴۳۵ میں مرقوم ہے:۔حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْ زَارَهَا یہاں تک کہ رکھ دیں لڑائی والے ہتھیار اپنے۔۔۔سب جگہ دین اسلام پہنچ جائے اور قتال کا حکم باقی نہ رہے اور یہ بات حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کے وقت ہوگی۔( تفسیر قادری المعروف حسینی مترجم اردو جلد ۲ صفحه ۴۳۵ سورة محمد ) لیکن جنگ کے بند ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ اب اس کے بعد کبھی تلوار کی جنگ ہو ہی نہیں سکتی۔خواہ دشمن اسلام کے خلاف تلوار اٹھا ئیں۔پس ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم ہرگز جہاد بالسیف کو حرام اور نا جائز نہیں سمجھتے اور نہ ہی قرآن