مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 773
773 روشنی ڈالی ہے۔( زمیندار ۲۵ / جون ۱۹۳۶ء ) ے۔مولانا سید سلیمان صاحب ندوی لکھتے ہیں :۔”جہاد کے معنے عموماً قال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں۔مگر مفہوم کی یہ نگی قطعاً غلط۔اس کے معنے محنت اور کوشش کے ہیں۔اس کے قریب قریب اس کے اصطلاحی معنے بھی ہیں۔یعنی حق کی بلندی اور اشاعت اور حفاظت کے لئے ہر ایک قسم کی جد و جہد کرنا۔قربانی اور ایثار گوارا کرنا اور ان تمام جسمانی و مالی و دماغی قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کو ملی ہیں۔اس کی راہ میں صرف کرنا۔یہانتک کہ اس کے لئے اپنی اور اپنے عزیز واقارب کی۔اہل عیال کی خاندان کی۔قوم کی جان تک کو قربان کر دینا اور حق کے مخالفوں اور دشمنوں کی کوششوں کو توڑنا ان کی تدبیروں کو رائیگاں کرنا۔ان کے حملوں کو روکنا۔اور اس کے لئے جنگ کے میدان میں اگر ان سے لڑنا پڑے تو اس کے لئے بھی پوری طرح تیار رہنا بھی جہاد ہے۔“ افسوس ہے کہ مخالفوں نے اتنے اہم اور اتنے ضروری اور اتنے وسیع مفہوم کو جس کے بغیر دنیا میں کوئی تحریک نہ کبھی سرسبز ہوئی ہے اور نہ ہوسکتی ہے صرف دین کے دشمنوں کے ساتھ جنگ کے تنگ میدان میں محصور کر دیا ہے۔یہاں ایک شبہ کا ازالہ کرنا ضروری ہے کہ اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ”جہاد“ اور قتال دونوں ہم معنی ہیں حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ان دونوں میں عام و خاص کی نسبت ہے، یعنی ہر جہاد قتال نہیں بلکہ جہاد کی مختلف قسموں میں سے ایک قتال اور دشمنوں کے ساتھ لڑنا بھی ہے۔“ (سیرت النبی جلد پنجم صفحه ۴۰۵ مطبع معارف شہر اعظم گڑھ ۱۹۵۲ء) امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر کبیر کا حوالہ جوا و پر دیا گیا ہے وہ درج ذیل ہے۔امام رازی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔وَأَمَّا قَوْلُهُ وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا فَقَالَ بَعْضُهُمُ الْمُرَادُ بَذْلُ الْجُهْدِ فِي الْآدَاءِ وَالدُّعَاءِ وَقَالَ بَعْضُهُمُ الْمُرَادُ الْقِتَالُ وَ قَالَ اخَرُونَ كَلَاهُمَا وَالْاقْرَبُ الْأَوَّلُ لَانَّ السُّورَةَ مَكَّيَّةٌ وَالامُرُ بِالْقِتَالِ وَرَدَ بَعْدَ الْهِجْرَةِ بِزَمَانِ۔“ تفسیر کبیر امام رازی طبع ثانیهد دار الکتب العلمیه طهران زیر آیت ) یعنی بعض علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں جہاد سے مراد دعا اور اصلاح کی کوشش ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد جنگ ہے۔اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے دونوں باتیں مراد ہیں لیکن