مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 772
772 یعنی لڑائی کا حکم ہجرت مدینہ کے بعد ہوا۔پس یکی زندگی میں کونسا جہا د تھا جس کا اس آیت میں حکم دیا جا رہا ہے، جہاد بالسیف تو ہو نہیں سکتا۔یقیناً وہ حق کی استقامت اور اس کی راہ میں تمام مصیبتیں اور شد تیں جھیل لینے کا جہاد تھا۔اس پر ”جہاد کبیر“ کا اطلاق ہوا۔اسی طرح منافقوں کے ساتھ بھی جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔حالانکہ منافق تو خود اسلام کے ماتحت مقہورانہ و محکومانہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ان سے جنگ وجدال کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ان سے جنگ کی گئی۔سو یہ جہاد بھی تبلیغ حق وا تمام حجت و مقادمت فساد کا جہاد تھا جو قلب و زبان سے تعلق رکھتا ہے۔لڑائی کے الگ کر دینے کے بعد بھی حقیقت جہاد باقی رہتی ہے۔“ مسئله خلافت و جزیره عرب صفحه ۲۳۹ تا ۲۴۲ مطبوعہ اردو پر لیس لاہور مارچ ۱۹۶۰ء) ۶۔مولوی ظفر علی صاحب آف ”زمیندار“ لکھتے ہیں:۔”جہاد یہی نہیں کہ انسان تلوار اٹھا کر میدانِ جنگ میں نکل کھڑا ہو بلکہ یہ بھی ہے کہ تقریر سے، تحریر سے سفر ، حضر ہر طرح سے جدو جہد کرے۔ہندوستان کا اصولِ جہاد بے تشد دو جد و جہد ہے۔اس پر تمام ہندوستانیوں کا اتفاق ہے۔“ اسلام نے جب بھی جہاد ( جہاد بالسیف۔خادم ) کی اجازت دی ہے مخصوص حالات میں دی ہے۔جہاد ملک گیری کی ہوس کا ذریعہ تکمیل نہیں ہے۔۔۔اس کے لیے امارت شرط ہے۔اسلامی حکومت کا نظام شرط ہے۔دشمنوں کی پیشقدمی اور ابتداء شرط ہے۔اتنی شرطوں کے ساتھ جو مسلمان خدا کی راہ میں نکلتا ہے۔اس کو کوئی شخص مطعون نہیں کر سکتا۔البتہ اگر مسلمانوں نے اپنی حکومت وسلطنت کے زمانہ میں کبھی ملک گیری کے لیے توسیع مملکت کے لیے اقوام وام کو غلام بنانے کے لیے تلوار اٹھائی ہے تو اس کو ” جہاؤ سے کوئی تعلق نہیں ہے“۔زمیندار ۴ ارجون ۱۹۳۶ء) پھر مولوی ظفر علی صاحب لکھتے ہیں :۔حضرت نوح علیہ السلام کا جوش تبلیغ ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی توحید پرستی حضرت عیسی علیہ السلام کا جمال، حضرت داؤد علیہ السلام کا نغمہ حکماء کی تصانیف علماء کے مجاہدے اور زاہدوں کی شب زندہ داریاں سب کی سب جہاد ہی کی مختلف صورتیں تھیں“۔مختصر یہ کہ اس آیت ( وَجَاهِدُهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا - الفرقان:۵۳) میں جاھد سے مراد یہ ہے کہ کافروں کو وعظ ونصیحت کر اور انہیں دعوت و تبلیغ کر کے سمجھا۔امام فخر الدین رازی نے اپنی مشہور تفسیر کبیر میں یونہی