مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 769
769 ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔وَجَاهِدَهُمْ بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان: ۵۳) یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) قرآن مجید کے ساتھ جہاد کر یعنی قرآن مجید کی تبلیغ واشاعت کر۔احادیث میں جہاد کے معنی:۔اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل احادیث بھی قابل توجہ ہیں:۔ا۔بخاری شریف میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:۔اَفْضَلُ الْجِهَادِ حَجٌ مَبْرُورٌ (بخاری کتاب الجهاد و السير باب فضل الجهاد والسير) كَلِمَةُ حَقٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرِ الْجِهَادُ الْأَكْبَرُ۔(مشکواة و نیز نسائی کتاب البيعة باب فضل من تكلم بالحق عند امام جائر)۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جنگ سے واپس مدینہ تشریف لاتے ہوئے فرماتے ہیں:۔رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْاَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاَكْبَرِ“ (رد المختار على الدر المختار كتاب الجهاد جلد ۳ صفحہ ۲۳۷) کہ ہم چھوٹے جہاد ( یعنی جنگ) سے فارغ ہو کر جہادا کبر ( بڑے جہاد ) یعنی اقامت دین و تبلیغ واشاعت اسلام و اصلاح عمل میں مشغول ہونے کے لئے جارہے ہیں۔پس ”جہادا کبر تبلیغ واقامت دین ہے اور جہاد اصغر تلوار کی لڑائی ہے۔جماعت احمد یہ کے دور اول یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی مندرجہ بخاری شریف ( يَضَعُ الْحَرْبَ ) کے مطابق جماعت احمدیہ کے لئے جہاد کبیر یعنی اقامت واشاعت اسلام و اصلاح عمل مقدر تھا۔سو جماعت نے یہ جہادا کبر اس شان سے کیا کہ اس وقت روئے زمین پر کسی اور جماعت میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔اسی طرح جب دور ثانی میں ”جہاد صغیر کا حکم ملے گا تو انشاء اللہ العزیز جماعت احمد یہ اس میدان میں بھی عدیم النظیر کا رہائے نمایاں سرانجام دے گی لیکن اس کے بالمقابل احراریوں کا کیا حال ہے؟ نہ ان کے لئے ”جہاد کبیر میں حصہ لینا مقدر ہے اور نہ جہاد صغیر میں۔جہاد کبیر یعنی تبلیغ و اشاعت اسلام و اصلاح عمل کے میدان میں ان کی مساعی محض صفر ہیں۔پھر کس طرح امید کی جائے کہ جب ان کے لئے جہاد سیفی کا حکم آ جائے گا تو وہ جان کی قربانی کے میدان میں ثابت قدم نکلیں گے؟ افسوس ہے؟ بقول ڈاکٹر