مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 39
39 ۳- اگر ہست جنوں ( عیالداروں ) کو چاہیے کہ اس طرح کوشش کریں کہ جس سے مینوں یعنی بھوت ( ماضی) بہوشیت ( مستقبل) اور ورتمان ( حال ) زمانہ میں بہت ہی سکھی ہوں۔“ ( تفسیر ایضاً جلد ا صفحه (۲۳۱) اس سے آج کا کام کئے ہوئے کا پھل گذشتہ دنوں میں مل جانا چاہیے۔حال و مستقبل کے لئے تو انسان کر سکتا ہے مگر آج کا پھل پہلے مل چکا ہے یہ کیسے؟ بالکل خلاف عقل ہے۔۴۔میں جو سوم لتا وغیرہ بوٹیوں (کو) جو زمین وغیرہ سے تین برس پہلے مکمل سکھ دینے میں عمدہ ظاہر ہوئیں جو حاصل کرنے والے بیماروں کے سو اور سات جنم اور ناڑیوں کے زخموں کو مفید ہیں ان ( تفسیر ایضاً جلد اصفحہ ۴۱۶ ادھیائے نمبر ۱۲منتر ۱۵) کو جلدی جانوں۔“ نوٹ :۔کیا زمین سے قبل بھی بوٹیاں تھیں۔اور ان سے لوگوں نے فائدہ حاصل کیا؟ آریوں کے ناقابل عمل اصول ضروری نوٹ:۔ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند کے جو حوالے یہاں درج کئے گئے ہیں اُن میں نمبر صفحہ ستیارتھ پرکاش کے نویں ایڈیشن شائع کردہ راجپال مینجر آریہ پستکالیہ انارکلی لاہور کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہے یہ ستیارتھ پرکاش کا وہ اردو تر جمہ ہے جس کے مترجمین میں سوامی شردھانند پنڈت چھو پتی ایم۔اے اور ماسٹر آتما رام جیسے آریہ پنڈتوں کے نام ہیں اور آریہ پرتی ندھی سبھا پنجاب سندھ (بلوچستان ) کی طرف سے یہ ترجمہ شائع کیا گیا ہے اور سرورق پر لکھا ہے۔صرف یہی ترجمہ مستند ہے۔“ (خادم) ا۔بچے از خود اکھنڈ (انتھر ازل ) بر مچھر یہ رکھ کر اور تیسرا اعلیٰ درجہ کا ہر بچر یہ کر کے مکمل یعنی چارسوسال تک عمر کو بڑھائیں۔(ستیارتھ پرکاش باب ۳ دفعہ نمبر۳۰) گویا نیک اور با ایمان آریہ کو چاہیے کہ برہم چاری رہ کر چار سو سال کی عمر حاصل کرے۔دیانند سے بڑھ کر تو با ایمان اور کامل برہمچاری اور کوئی آریہ نہ ہو گا مگر اس کی عمر بھی ساٹھ سال سے متجاوز نہ ہوئی۔پس ثابت ہوا کہ یہ تعلیم باطل اور نا قابل عمل ہے۔۲۔بقول دیا نند مردہ دفن کرنے میں بہت اقتصادی نقصان ہوتا ہے ( حالانکہ قبر کی کھودائی ۸/