مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 40 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 40

40 ہوتی ہے۔) ( خادم) لیکن جلانے میں صندل کی لکڑی، عود، کستوری بنے اور ڈیڑھ من روغن زرد وغیرہ وغیرہ اشیاء قیمتی سے تقریباً دو سو روپیہ کا زیر بار ہونا ضروری ہے۔اگر میسر نہ آوے تو بھیک مانگے یا (ستیارتھ ب ۱۳ دفعه ۲۷) گورنمنٹ سے امداد طلب کرے۔مگر جنگ میں جہاں ہزاروں مرتے ہیں یہ عالمگیر اصول دریائر دہو جاتا ہے جیسے مہا بھارت کی جنگ میں ہوا۔کیونکہ وہاں یہ اشیائے قیمتی نہ مل سکیں اور نہ میسر آسکتی تھیں۔۳۔جس لڑکی کا خاوند مر جائے تو پھر اس کہنیا کو چاہیے کہ کسی شخص واحد سے بیاہ نہ کرے۔وہ عمر بھر ایک کی نہ ہور ہے بلکہ دس بارہ مختلف نو جوانوں سے تادم آخر مضبوط اولاد حاصل کرتی رہے۔(ستیارتھ ب ۴ دفعه ۱۱۸) آریہ عورت کے تیسرے نیوگی خصم کو اگنی کہتے ہیں کیونکہ اس میں حرارت زیادہ ہوتی ہے۔(ستیار تهب ۴ دفعه ۱۳۶) پہلے اور دوسرے خصم میں حرارت کیوں کم ہوتی ہے اور پانچویں دسویں وغیرہ میں کیوں کم و بیش نہیں ؟ اس کی تشریح مطلوب ہے۔۵۔بموجب اعتقاد دیانندی روح و مادہ مع اپنی تمام قوتوں ،حسوں اور خاصیتوں کے ازلی ابدی خود بخود ہیں۔یعنی اپنے وجود کے آپ خدا ہیں اور پر میشور کا کام صرف ارواح اور مادہ کو جوڑنے جاڑنے کا ہے لیکن اب معلوم ہوا کہ روحوں میں جوڑنے جاڑنے کی قوت انفصال واتصال کی خواہش بھی (ستیار تھب ۳ دفعه ۳۴) ازل سے ہے۔(ستیارتھ ب ۷ دفعہ ۵۳) آریہ اور دہریہ میں کیا فرق ہوا۔خاک۔نجات کے طالب اور بچے آریہ کو چاہیے کہ قریباً پچاس سال کا ہو کر بیاہ کرے یا ۴۴ سال کے بعد۔مگر پچاس سال تک تو انسان بوڑھا ہو جاتا ہے۔پھر بیاہ کس لئے اور کس کے لئے۔مضبوط اولاد کیونکر اور کون پیدا کرے گا۔اس میں کوئی غلطی یا را ز ضرور ہے ( غالبا اس عرصہ میں بذریعہ نیوگ اولاد پیدا کرنے کی مہلت دی ہوگی ) ایسا بیاہ کرنے والا دو سو سال سے چار سو سال تک عمر حاصل کر سکتا ہے۔(ستیار تھب ۶ دفعه ۳۰) مگر تجر بہ اس اصول کا دشمن ہے۔سوائے دیا نند کے جو بجائے پچاس کے ساٹھ سال مجرد رہ کر سفید ریش ہو کر بڑھاپے کے نشان اور آثار دیکھ کر راہی عالم فنا ہوئے۔چارسوسال کی عمر