مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 753 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 753

753 حضرت سید احمد بریلوی کا انگریز کے خلاف جہاد نہ کرنے کا فتویٰ پھر اگر محض اس فتوی کی بناء پر کہ انگریز کے خلاف جہاد بالسیف از روئے تعلیم اسلامی جائز نہیں۔اگر حضرت مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کی تکثیر کو درست تسلیم کیا جائے تو تیرھویں صدی کے مجد دحضرت سید احمد بریلوی اور ان کے خلیفہ حضرت اسمعیل شہید پر بھی یہی فتویٰ عائد ہوگا کیونکہ ان ہر دو بزرگوں نے بھی (جن کو احراری بھی اپنا بزرگ تسلیم کرتے ہیں ) انگریزی حکومت کے خلاف عدم جہاد کا بعینہ وہی فتویٰ دیا ہے جو ان کے بعد حضرت مرزا صاحب نے دیا۔مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری کی شخصیت یاد رہے کہ حضرت سید احمد بریلوی اور اسمعیل شہید کے فتاویٰ اس کتاب سے نقل کئے گئے ہیں جو مولانا محمد جعفر صاحب تھانیسری کی تصنیف ہے اور مولوی محمد جعفر صاحب تھانیسری وہ بزرگ ہیں جو حضرت سید احمد شہید کی تحریک میں شامل تھے اور بقول مولانا غلام رسول صاحب مہر :۔مولوی محمد جعفر صاحب کا گھر کئی برس تک سید صاحب کے مجاہدین کے لئے چندہ بھیجنے کا ایک مرکز بنا رہا۔اسی بناء پر وہ گرفتار ہوئے۔انگریزوں نے ان پر مقدمہ چلایا اور پھانسی کی سزا دی۔جائیداد ضبط کر لی یہ سزا اس لئے جبس دوام میں تبدیل ہوئی کہ مولوی صاحب کیلئے پھانسی پر جان دے دینا آسان تھا اور انگریز چاہتے تھے کہ انہیں قید کی مصیبتوں میں مبتلا رکھ کر زیادہ سے زیادہ ایذاء پہنچائیں۔“ مولوی محمد جعفر صاحب نے سرکار انگریزی کی مخالفت ہی کے باعث اٹھارہ سال جزائر انڈیمان میں بسر کئے۔ان کی جائیداد ضبط ہوئی اور جو تکلیفیں اٹھا ئیں ان کے بیان کا یہ موقع نہیں وہ ان کارناموں کی وجہ سے عظیم تھے۔“ ( احراری اخبار آزادلا ہور ۱۲ اکتو بر ۱۹۵۲ء جلد۲ کالم۳) پس مولوی محمد جعفر صاحب وہ انسان تھے جن کو انگریز کی خوشامد کی کوئی ضرورت نہ تھی علاوہ ازیں سوانح احمدی اس زمانہ میں لکھی گئی جبکہ سید احمد صاحب بریلوی کو دیکھنے والے اور ان سے ملنے والے لوگ زندہ موجود تھے۔اگر یہ روایات درست نہ ہوتیں تو اسی وقت ان کی تردید میں ضرور وہ لوگ آواز بلند کرتے۔اس وقت اصل دستاویزات محولہ ابھی موجود تھیں اس لئے ان پر جرح و تنقید کا وقت وہی تھا۔پھر یہ کتاب اس وقت لکھی گئی جبکہ جماعت احمد یہ کا کوئی وجود ہی نہ تھا اور نہ