مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 725
725 ”اور تم میں سے جو ملازمت پیشہ ہیں وہ اس کوشش میں ہیں کہ مجھے اس محسن سلطنت کا باغی ٹھہرا دیں۔میں سنتا ہوں کہ ہمیشہ خلاف واقعہ خبریں میری نسبت پہنچانے کے لئے ہر طرف سے کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آپ لوگوں کو خوب معلوم ہے کہ میں باغیانہ طریق کا آدمی نہیں ہوں۔“ تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۵۵) اس کے آگے وہ عبارت شروع ہوتی ہے جس کا حوالہ احراری معترضین دیا کرتے ہیں۔نور الحق حصہ اول کی عبارت احراری معترضین نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ کے صفحہ ۴۰ وصفحہ ۴۱ کا حوالہ بھی اس الزام کی تائید میں پیش کرتے ہیں لیکن جو شخص کتاب نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ کا صفحه ۳۳ و صفحه ۳۴ پڑھے گا اس کو علم ہو جائے گا کہ یہ عبارتیں بھی پادری عمادالدین کی طرف سے عائد شدہ الزام بغاوت کے جواب میں لکھی گئیں۔چنانچہ حضور ملکہ وکٹوریہ کومخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔ایک شخص نے ایسے لوگوں میں سے جو اسلام سے نکل کر عیسائی ہو گئے ہیں یعنی ایک عیسائی جو اپنے تئیں پادری عماد الدین کے نام سے موسوم کرتا ہے ایک کتاب ان دنوں میں عوام کو دیکھو کہ دینے کے لئے تالیف کی ہے اور اس کا نام تو زین الاقوال رکھا ہے اور اس میں ایک خالص افترا کے طور پر میرے بعض حالات لکھے ہیں اور بیان کیا ہے کہ یہ شخص ایک مفسد آدمی اور گورنمنٹ کا دشمن ہے اور مجھے اس کے طریق چال چلن میں بغاوت کی نشانیاں دکھائی دیتی ہیں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے ایسے کام کرے گا اور وہ مخالفوں میں سے ہے۔اب ہم گورنمنٹ عالیہ کو ان باتوں کی اصل حقیقت سے مطلع کرتے ہیں جو ہم پر اس نے افترا کیں اور گمان کیا کہ گویا ہم دولت برطانیہ کے بدخواہ ہیں۔“ ( نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۳ و ۳۴) اس کے آگے وہ عبارتیں شروع ہوتی ہیں جو احراری معترضین پیش کرتے ہیں۔لیکن ص۳۰ طبع اول کی عبارت کو نقل کرنے میں یہ صریح تحریف اور بددیانتی کرتے ہیں کہ درمیان سے یہ عبارت حذف کر دیتے ہیں:۔اور میں نے یہ کام گورنمنٹ سے ڈر کر نہیں کیا اور نہ اس کے کسی انعام کا امیدوار ہوکر کیا ہے۔“ نور الحق حصہ اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۱ ) پس ظاہر ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی یہ سب عبارتیں بھی دشمن کے جھوٹے الزام کی تردید