مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 726
726 میں ہیں نہ کہ بطور خوشامد جیسا کہ احراری معترضین ظاہر کرتے ہیں۔کتاب البریہ کی عبارت اب ہم کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ۳ کی عبارت کو لیتے ہیں جو احراری معترضین کی طرف سے بار بار پیش کی جاتی ہے وہ ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے:۔یہ بھی ذکر کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے اپنے بیان میں کہیں اشارۃ اور کہیں صراحتا میری نسبت بیان کیا ہے کہ گویا میرا وجود گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔“ (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۳) یادر ہے کہ پادری مارٹن کلارک ایک بہت بڑا عیسائی پادری تھا اور انگریز حکام اس کی عزت کرتے تھے اس نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر اقدام قتل کا ایک جھوٹا استغاثہ دائر کیا تھا اس مقدمہ کے دوران میں اس نے بطور مستغیث عدالت میں جو بیان دیا اس میں یہ کہا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ انگریزوں کا باغی ہے اور اس کا وجود انگریزوں کے لئے خطرناک ہے۔خود کاشتہ پودہ والی عبارت آخری عبارت جو احراریوں کی طرف سے اس الزام کی تائید میں پیش کی جاتی ہے اشتہار ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ تبلیغ رسالت جلد ہفتم صفحہ ۱۹ کی ہے۔یہ اشتہار تبلیغ رسالت صفحہ ے سے شروع ہو کر صفحہ ۲۸ پر ختم ہوتا ہے۔اس اشتہار کے صفحہ ۱۹ کے حوالہ سے احراری خود کاشتہ پودہ“ کا لفظ اپنے سیاق وسباق سے الگ کر کے پیش کرتے ہیں۔اس الزام کا مفصل جواب تو آگے آتا ہے لیکن اس جگہ یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین اس عبارت کو بھی پیش کرتے وقت دیانت سے کام نہیں لیتے اور اپنی پیش کردہ عبارت سے اوپر کی مندرجہ ذیل عبارت حذف کر جاتے ہیں۔مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بداندیش جو بوجہ اختلاف عقیده یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں۔میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ امور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بدگمانی پیدا ہو اس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر کمر