مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 707 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 707

707 ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میباشم از عنفوان وقتے کہ بالغ بستن شباب وموفق بتالیف کتاب شده ام دوستدار آن بوده ام که مخالفین را بسوئے دین روشن خدا دعوت کنم۔بنا بر آن بسوئے ہر مخالفے مکتو بے فرستادم و جوان و پیر را ندائے قبول اسلام در دادم " یعنی خدا کی قسم! میں عاشق اسلام اور فدائے حضرت خیر الانام ہوں اور حضرت احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں۔اور جب سے میں جوان ہوا اور مجھے کتاب لکھنے کی توفیق ملی میری یہی دلی خواہش رہی کہ میں اللہ تعالیٰ کے روشن دین کی طرف مخالفین کو دعوت دوں چنانچہ میں نے ہر ایک مخالف کی طرف مکتوب روانہ کیا اور چھوٹے بڑے کو اسلام کی طرف دعوت دی۔“ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۹۳-۳۹۴) یہ عبارت آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۳۹۳-۳۹۴ کی ہے اور مخالفین کی پیش کردہ ” ذرية البـغـايا“ والی عبارت صفحہ ۵۴۸،۵۴۷ پر ہے جو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے:۔وَ قَدْ حُبِّبَ إِلَيَّ مُنْذُ دَنَوْتُ الْعِشْرِينَ اَنْ اَنْصُرَ الدِّينَ۔وَ أَجَادِلَ الْبَرَاهِمَةَ وَ الْقِسِيْسِينَ۔وَقَدْ أَلَّفْتُ فِي هَذِهِ الْمُنَاظَرَاتِ مُصَنَّفَاتٍ عَدِيدَةٌ ( جس کا ترجمہ پچھلے صفحہ پر دیا جا چکا ہے ) اب ان دونوں عبارتوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو بالکل ایک ہی مضمون ہے۔پس ثابت ہوا کہ صفحہ ۵۴۸ پر لفظ " دعوتی“ میں جس ”دعوت“ کا ذکر ہے وہ صفحہ ۳۸۹ پر مذکور دعوتِ اسلام“ ہی ہے نیز دیکھو ازالہ اوہام حصہ اول خورد صفحه ۱۱۲ حاشیہ۔۵۔تاج العروس زیر مادہ بغی میں ہے اَلْبَغْى الامَةُ فَاجِرَةٌ كَانَتْ أَوْ غَيْرَ فَاجِرَةٍ كم ”بغی“ کے معنی لونڈی کے ہیں۔خواہ وہ بد کار نہ ہو۔تب بھی یہ لفظ اس پر بولا جاتا ہے۔الْبَغِيَّةُ فِي الْوَلَدِ نَقِيضُ الرُّشْدِ وَيُقَالُ هُوَ ابْنُ بَغِيَّةٍ ) تاج العروس زیر مادہ بھی) کہ کسی کو یہ کہنا کہ وہ ابن بغتیہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہدایت سے دور ہے کیونکہ لفظ ”بغیــه » «رشد» یعنی صلاحیت کا مخالف ہے۔گویا ذُرِّيَّةُ الْبَغَايَا کا ترجمہ ہوگا ہدایت سے دور۔۔حضرت مسیح موعود نے خود ابن البغاء کا ترجمہ ”سرکش انسان کیا ہے۔سعد اللہ لدھیانوی کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ میں نے اپنے قصیدہ انجام آتھم میں اس کے متعلق لکھا تھا آذَيْتَنِي حُبُنًا فَلَسْتُ بِصَادِقِ إِنْ لَمْ تَمُتُ بِالْخِزْيِ يَا ابْنَ بِغَاءِ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۲۸۲)