مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 700
700 الجواب:۔حضرت مرزا صاحب نے ہرگز ہرگز شریف اور مہذب مولویوں یا دوسرے مسلمانوں کو گالی نہیں دی۔یہ محض احراریوں کی شر انگیزی ہے کہ وہ عوام الناس اور شریف علماء کو ہمارے خلاف اشتعال دلانے کی غرض سے اصل عبارات کو ان کے سیاق وسباق سے علیحدہ کر کے اور کانٹ چھانٹ کر پیش کر کے کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے تمام مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں۔حالانکہ حضرت مرزا صاحب کی ان تحریرات کے مخاطب وہ چند گنتی کے مولوی۔پادری یا پنڈت تھے جو حضرت صاحب کو نہایت فخش اورنگی گالیاں دیتے تھے چنانچہ انہوں نے حضرت صاحب اور حضور کے اہل بیت کے گندے اور توہین آمیز کارٹون بھی بنا کر شائع کئے ان کی گالیوں کی کسی قدر تفصیل حضرت صاحب کی کتاب کتاب البریہ صفحه ۱۲۳ تا صفحه ۱۳۳ اور کشف الغطاء صفحہ ۱۵ تا صفحہ ۳۱ میں موجود ہے۔ان لوگوں میں محمد بخش جعفر زٹلی، شیخ محمد حسین ، سعد اللہ لدھیانوی اور عبدالحق امرتسری خاص طور پر گالیاں دینے میں پیش پیش تھے۔سعد اللہ لدھیانوی کی صرف ایک نظم بعنوان "نظم حقانی مسلمی به سرائر کا دیانی میں حضرت صاحب کی نسبت "روسیاہ بے شرم، احمق، بھانڈ ، یاوہ گو، نجمی، بدمعاش، لا چی، جھوٹا ، کافر، دجال، حمار وغیرہ الفاظ موجود ہیں۔اسی طرح رساله اعلان الحق و اتمام الحجة و تکملہ صفحہ ۳۰ پر آپ کی نسبت حرامزدہ “ کا لفظ بھی استعمال کیا گیا ہے۔پس حضرت مرزا صاحب کے سخت الفاظ اس قسم کے بد زبان لوگوں کی نسبت بطور جواب کے ہیں لیکن تعجب ہے کہ وہ معدودے چند مخصوص لوگ جو ان تحریرات کے اصل مخاطب تھے۔عرصہ ہوا فوت بھی ہو چکے اور آج ان کا نام لیوا بھی کوئی باقی نہیں لیکن احراری آج سے ۶۰ ۷۰۰ برس پہلے کی شائع شدہ تحریریں پیش کر کے موجودہ لوگوں کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ تحریرات تمہارے متعلق ہیں۔حالانکہ بسا اوقات بے خود احراری اور ان کے سامعین وہ لوگ ہوتے ہیں جو ان تحریروں کی اشاعت کے وقت ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔-۲۔پھر یہ بات تو ہر شخص تسلیم کرے گا کہ اس قسم کی گندی اور مخش گالیاں جیسی حضرت صاحب کے مخالفین نے آپ کو دیں سن کر کوئی شریف یا نیک فطرت انسان ان گالیاں دینے والوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے کبھی نہیں دیکھ سکتا۔پس اگر ایسے لوگوں کی نسبت حضرت صاحب نے جوابی طور پر بظاہر سخت الفاظ استعمال فرمائے ہوں تو بموجب ارشاد خداوندی " لا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظلم “ (النساء:۱۴۹) حضرت صاحب کی کس تحریر کو بھی سخت یا نا مناسب نہیں کہا جاسکتا۔