مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 701
701۔پھر حضرت صاحب نے ان گالیاں دینے والے گندے دشمنوں کو بھی کوئی گالی نہیں دی بلکہ آپ نے ان کی نسبت جو کچھ فرمایا۔دراصل وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا بڑا نرم ترجمہ کیا ہے۔حدیث میں ہے۔عُلَمَاءُ هُمُ شَرُّ مَّنْ تَحْتَ أدِيمِ السَّمَاءِ“ (مشكوة كتاب العلم الفصل الثالث) کہ وہ علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔گویا اگر آسمان کے نیچے بدذات بھی رہتے ہیں تو فرمایا شَرُّهُمْ یعنی ان سے بھی وہ بدتر ہوں گے۔پس حضرت نے تو نرم الفاظ استعمال فرمائے ہیں ورنہ آنحضرت صلعم نے تو تفضیل کل کا صیغہ بولا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرما دیا ہے۔(1) لَيْسَ كَلامُنَا هَذَا فِى اَخْيَارِهِمْ بَلْ فِي اَشُرَارِهِم۔» (الهدای روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۱۴ حاشیہ) کہ ہم نے جو کچھ لکھا ہے یہ صرف شریر علماء کی نسبت لکھا ہے ورنہ غیر احمدیوں میں سے جو علماء شریر نہیں۔ہم نے ان کی نسبت یہ نہیں لکھا۔فرماتے ہیں:۔(۴) نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَتْكِ الْعُلَمَاءِ الصَّالِحِيْنَ، وَقَدْحِ الشُّرَفَاءِ الْمُهَذَّبِينَ، سَوَاءٌ كَانُوا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أوِ الْمَسِيحِينَ أَوِ الآرِيَةِ لجبد النور روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۴۰۹) ہم نیک علما ء کی ہتک اور شرفاء کی تو ہین سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں۔خواہ ایسے لوگ مسلمان ہوں یا عیسائی یا آریہ (۵) صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بگفتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بد گوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں تو ہین اور ہتک آمیز باتیں منہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔“ اشتہار مشموله لیام الصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۲۸ اردو ٹائمثل و تبلیغ رسالت جلدے صفحہ ۷۷ ) علماء کی حالت اور غیر احمدی گواہیاں ا۔نواب نورالحسن خاں صاحب آف بھوپال لکھتے ہیں۔اب اسلام کا صرف نام، قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔۔۔علماء اس امت کے بدتر ان کے ہیں جو نیچے زمین کے ہیں۔انہیں سے فتنے 66 نکلتے ہیں۔انہیں کے اندر پھر کر جاتے ہیں۔“ (اقتراب الساعۃ ۱۲) ۲- اگر نمونہ یہود خواہی کہ بینی علماء سوء که طالب دنیا باشند 66 ( الفوز الکبیر صفحہ مصنفہ شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی مطبع مجتبائی دہلی )