مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 695
695 اعتراض پیش کر کے نا واقف لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وَمِنْ تَلْبِيسِهِمْ قَدْ حَرَّفُوا الْأَلْفَاظَ تَفْسِيرًا وَقَدْ بَانَتْ ضَلَالَتُهُمْ وَلَوْ الْقُوُا الْمَعَاذِيرًا مسیح الموعود ) نور الحق۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۷۸) ۲۸۔حضرت مسیح کی چڑیوں کی پرواز مرزا صاحب نے آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۶۸ طبع اول میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح کی چڑیوں کی پرواز قرآن مجید سے ثابت ہے لیکن ازالہ اوہام صفحہ ۳۰۷ طبع اول حاشیہ پرلکھا ہے کہ پرواز ثابت نہیں؟ جواب: اصل عبارتیں درج ذیل ہیں:۔اس فن (علم الترب) کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ ایسا جانور جومٹی یا لکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمل الترب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جائے وہ در حقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی با روت کی طرح اُس کو جنبش میں لاتی ہے اور یہ بھی یادرکھنا چاہیے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپا یہ ثبوت نہیں پہنچتا اور نہ در حقیقت ان کا زندہ ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔" (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۶-۲۵۷ حاشیه ) آئینہ کمالات اسلام کی عبارت مندرجہ ذیل ہے:۔حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی تھیں اور کہیں خدا تعالی نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں۔“ (صفحہ ۶۸ طبع اول ۱۸۹۳ء) پس کوئی اختلاف نہیں کیونکہ انکار حقیقی زندگی کے ساتھ سچ سچ کے پرواز کا ہے اور اقرار غیر حقیقی اور عارضی پرواز کا۔۲۹۔مُریدوں کی تعداد مرزا صاحب نے پہلے اپنے مریدوں کی تعداد پانچ ہزار ( انجام انتقم صفحہ ۱۴) بیان کی لیکن جب