مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 694 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 694

694 نشان تھا؟“ (ایام اصلح روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴ ۴۰ ) اس عبارت میں بھی حضور نے جن چیزوں کے خدا تعالیٰ سے سیکھنے کا ذکر فرمایا ہے وہ قرآنی معارف و حقائق ہیں۔نہ کہ الفاظ قرآنی ! (ھ) آگے چل کر بطور نتیجہ تحریر فرماتے ہیں:۔سو میری کتابوں میں اُن برکات کا نمونہ بہت کچھ موجود ہے۔براہین احمدیہ سے لے کر آج تک جس قدر متفرق کتابوں میں اسرار اور نکات دینی خدا تعالیٰ نے میری زبان پر باوجود نہ ہونے کسی اُستاد کے جاری کئے ہیں۔اس کی نظیر اگر موجود ہے تو کوئی صاحب پیش کریں۔“ ( ایام الصلح - روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۰۶ ) (و) پھر فرماتے ہیں:۔جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہر گز نہیں لکھ سکتا۔اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی (ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۴۰۷) (ایضاً حاشیه ) (ز) اس عبارت پر حاشیہ لکھتے ہیں: مہوتسو کے جلسہ میں بھی اس کا امتحان ہو چکا ہے۔“ (ح) اسی طرح صفحہ ۱۶۰ پر بھی حقائق و معارف اور نکات اور اسرار شریعت کے الفاظ موجود ہیں غرضیکہ ایام الصلح کے مندرجہ بالا اقتباسات سے جو سب کے سب معترضین کی پیش کردہ عبارت کے ساتھ ملحق ہیں یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی انسان سے جس چیز کے پڑھنے کی نفی فرمائی ہے۔وہ قرآنی الفاظ نہیں بلکہ حقائق و معارف قرآنیہ ہیں۔حضرت اقدس نے ایام الصلح ، یا کسی اور کتاب میں ایک جگہ بھی یہ تحریر نہیں فرمایا کہ میں نے قرآن مجید ناظرہ بھی کسی شخص سے نہیں پڑھا۔نہ یہ چیلنج دیا ہے کہ میں استاد نہ ہونے کے باوجود قرآن مجید کے الفاظ اچھی طرح پڑھ سکتا ہوں۔اور یہ کہ فن قرآت میں میرا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ہاں حضور نے یہ دعوی ضرور فرمایا ہے کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف، مطالب اور نکات حضور کے الہام الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ “ ( تذکرہ صفحه ۴۴ ایڈیشن سوم ) کے مطابق حضور کو براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئے اور اس لحاظ سے یقیناً حضور علیہ السلام نے قرآن مجید کسی انسان سے نہیں پڑھا۔اور اسی امر کا دعویٰ حضور علیہ السلام نے ایام الصلح صفحہ ۴۷ پر بھی کیا ہے۔جس کو معاندین جماعت احمد یہ انتہائی نا انصافی سے بطور