مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 688 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 688

688 (۵) ایک جگہ فرمایا: - فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النَّاءِ۔فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً “ (النساء:۴) کہ دو دو چار چار بیویاں کرلو۔اور اگر تمہیں ڈر ہو کہ تم عدل نہ کر سکو گے۔تو پھر ایک ہی کرو۔مگر دوسری جگہ فرمایا: - وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النَّسَاء (النساء: ۱۳۰) کہ تم ہرگز اپنی بیویوں میں انصاف نہیں کر سکو گے۔خواہ تم کتنی خواہش کرو۔غرضیکہ اور بھی بہت سی آیات ہیں۔اب ظاہر ہے کہ گو بظاہر ان میں اختلاف اور تناقض معلوم ہوتا ہے مگر در حقیقت تناقض نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ان میں تناقض کی وحدتیں پائی نہیں جاتیں۔ہر ایک ان میں سے مختلف مواقع پر مختلف حالات کے لحاظ سے مختلف مضامین کی حامل ہیں۔لہذا بوجه عدم تحقق وحدت ان میں تناقض نہیں بعینہ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال میں بھی در حقیقت کوئی تناقض یا اختلاف نہیں۔مگر جس طرح دشمنانِ اسلام نے قرآن مجید پر تناقض اور اختلاف کا جھوٹا الزام لگایا تھا۔اسی طرح دشمنانِ احمدیت نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال کے متعلق تناقض کا الزام لگایا ہے۔پس تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ “ (البقرة:119) کے مطابق دونوں اعتراض کنندگان غلطی پر ہیں۔نہ قرآن مجید میں اختلاف اور نہ خادم قرآن حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال میں حقیقی تناقض ہے۔اب ہم ذیل میں ان مقامات کو لیتے ہیں جن کو پیش کر کے مخالفین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال میں تناقض ثابت کرنے کی ناکام کوشش کیا کرتے ہیں۔تناقض کی تعریف لیکن قبل اس کے کہ ہم مفصل بحث کریں۔تناقض کی تعریف از روئے منطق درج کرتے ہیں۔مشہور شعر ہیں در تناقض ہشت وحدت شرط واں وحدت موضوع (۱) و محمول (۲) ومکاں (۳) وحدت شرط (۴) واضافت (۵) جزو کل (۶) قوت (۷) وفعل است در آخر زماں (۸) یعنی موضوع محمول، مکان ، شرط، اضافت، جز و کل اور بالقوۃ و بالفعل اور زمانہ کے لحاظ سے اگر دو قضیے متفق ہوں۔مگر ان میں ایجاب وسلب کا اختلاف بلحاظ حکم اور موجہ میں کیفیت اور محصورہ میں کمیت کا اختلاف ہو تو وہ دونوں قضیے متناقض کہلائیں گے۔