مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 639
639 اُس پناہ دینے کو کہتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی حد تک مصیبت رسیدہ ہو کر پھر امن میں آ جاتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۴۳) اوی“ کا لفظ زبان عرب میں ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قدر مصیبت یا ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لیا جائے۔اور کثرت مصائب اور تلف ہونے سے بچایا جائے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الم يَجِدُكَ يَتِيمًا فَاوى (الضحى: ) ) اسی طرح تمام قرآن شریف میں اوی“ کا لفظ ایسے ہی موقعوں پر استعمال ہوا ہے کہ جہاں کسی شخص یا کسی قوم کو کسی قدر تکلیف کے بعد پھر آرام دیا گیا۔( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۹) پس ان پیشگوئیوں کے مطابق قادیان کو ایک دفعہ کسی قدر عذاب کے بعد اپنی امان میں لے لیا گیا اور اسی کو حضرت اقدس علیہ السلام نے صرف قادیان ہی کی نسبت سے ” طاعون زور پر تھا۔“ قرار دیا ہے (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۸۷ حاشیہ ) چنانچہ خود دوسری جگہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۴۴ میں تحریر فرماتے ہیں کہ صرف ایک دفعہ کسی قدر شدت سے طاعون قادیان میں ہوئی۔“ وَبِضِدِّهَا تَتَبَيَّنُ الْأَشْيَاءُ پس قادیان میں کبھی بھی طاعون جارف نہیں آئی جو بربادی انگن ہوتی ہے۔ہاں حضرت اقدس علیہ السلام نے اعلان فرمایا تھا اِنّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔۔۔۔أحَافِظُكَ خاصة ( تذکره صفحه۳۵۰ مطبوع ۲۰۰۴ء) کہ تیرے گھر کی چاردیواری میں رہنے والے طاعون سے محفوظ رہیں گے اور تیری تو خاص حفاظت کی جائے گی (خواہ چار دیواری کے اندر ہوں یا باہر ) چنانچہ ایسا ہی ہوا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے بانگ دہل اعلان فرمایا:۔” میرا یہی نشان ہے کہ ہر ایک مخالف خواہ وہ امروہہ میں رہتا ہے اور خواہ امرتسر میں اور خواہ دہلی میں اور خواہ کلکتہ میں اور خواہ لاہور میں اور خواہ گولڑہ میں اور خواہ بٹالہ میں۔اگر وہ قسم کھا کر کہے گا کہ اس کا فلاں مقام طاعون سے پاک رہے گا تو ضرور وہ مقام طاعون میں گرفتار ہو جائے گا کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے مقابل پر گستاخی کی۔“ دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۸) چنانچہ چراغ دین جمونی ہلاک ہوا۔تفصیل دیکھو حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۳۸۶