مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 638
638 پس اس پیشگوئی میں بھی ولادت سے مرا طبعی ولادت نہیں ، بلکہ ولادتِ معنوی ہے۔جو انسان کو انبیاء کا وارث بناتی ہے۔سو یہ عجیب بات ہے کہ ۱۹۰۶ء میں ہی حضرت اقدس علیہ السلام نے اس لڑکے کی پیدائش معنوی کی پیشگوئی فرمائی۔۱۹۰۶ ء ہی میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے رسالہ تفخیذ الا ذہان جاری فرمایا جس سے حضور کے کمالاتِ دینیہ و روحانیہ کا اظہار شروع ہوا اور ”سلطان القلم‘ کی وراثت حقیقی کا تمغہ آپ کو ملا۔پھر ۱۹۱۴ء میں حضور ایدہ اللہ اپنے معنوی بلوغ کو پہنچ کر اور سریر آرائے خلافت ہوکر کامل و مکمل طور پر ” عالم کباب کا مصداق ہے ، جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔۶۔قادیان میں طاعون اعتراض: مرزا صاحب نے کہا تھا کہ قادیان میں طاعون ہرگز نہیں آئے گی۔یہ پیشگوئی غلط نکلی۔الجواب:۔یہ بالکل جھوٹ ہے کہ حضرت اقدس نے قادیان میں طاعون کا آنا ممنوع قرار دیا ہے۔بلکہ حضرت اقدس علیہ السلام نے تو فرمایا ہے کہ قادیان میں طاعون آئے گی تو سہی مگر طاعون جارف یعنی جھاڑو دینے والی طاعون نہیں آئے گی۔چنانچہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام دافع البلاء میں فرماتے ہیں:۔ا۔ہم دعوے سے لکھتے ہیں کہ قادیاں میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے۔( دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۲۲۵ حاشیه ) ۲۔پھر فرماتے ہیں:۔میں قادیاں کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا خصوصا ایسی تباہی سے کہ لوگ کتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔“ دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۳۷) " کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں بھی کوئی واردات شاذ و نادر طور پر ہو جائے جو بر بادی بخش نہ ہو اور موجب فرار و انتشار نہ ہو کیونکہ شاذونادر معدوم کا حکم رکھتا ہے۔“ دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۵ حاشیه ) ۴- إِنَّهُ اوَى الْقَرْيَةِ۔اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کسی قدر عذاب کے بعد اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لے لے گا۔یہ معنی نہیں کہ ہر گز اس میں طاعون نہیں آئے گی۔اولیٰ کا لفظ عربی زبان میں