مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 637 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 637

637 جو اس پیشگوئی کا خارق عادت ہونا ہے وہ دوسرے پہلو میں بھی پایا جائے۔اور واقعہ کے ظہور کے بعد ہر ایک عقلمند کو سمجھ آجائے کہ یہی صحیح معنے پیشگوئی کے ہیں جو واقعہ نے اپنے ظہور سے آپ کھول دیئے ہیں تو اس پیشگوئی کی عظمت اور وقعت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا۔اور اس پر ناحق نکتہ چینی کرنا شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۵۰) ولادت معنوی بعض مخالف کہا کرتے ہیں کہ ۱۹۰۶ء میں جب یہ پیشگوئی حضرت صاحب نے کی اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الثانی پیدا ہو چکے تھے۔الجواب:۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ الہام میں ولادت سے ولادت جسمانی مراد نہیں بلکہ ولادت معنوی مراد ہے۔جیسا کہ امام الشیخ سہر وردی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:۔يَصِيرُ المُرِيدُ جُزْء الشَّيْخِ كَمَا أَنَّ الْوَلَدَ جُزْءُ الْوَالِدِ فِي الْوَلَادَةِ الطَّبْعِيَّةِ وَ تَصِيرُ هَذِهِ الْوَلَادَةُ انِفًا وَلَادَةً مَعْنَوِيَّةً كَمَا وَرَدَ عَنْ عِيسَى صَلوةُ اللَّهِ عَلَيْهِ " لَنْ يَّلِجَ مَلَكُوتَ السَّمَاءِ مَنْ لَّمْ يُولَدُ مَرَّتَيْنِ فَبِالْوَلَادَةِ الأولى يَصِيرُلَهُ ارْتِبَاطٌ بِعَالَمِ الْمَلَكِ وَ بِهَذِهِ الْوَلَادَةِ يَصِيرُ لَهُ اِرْتِبَاطٌ بِالْمَلَكُوتِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى " وَ كَذَلِكَ نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوْتَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوْقِنِينَ وَ صَرُفَ الْيَقِينِ الْكَمَالِ يَحْصِلُ فِي هَذِهِ الْوَلَادَةِ۔وَبِهَذِهِ الْوَلَادَةِ يَسْتَحِقُ مِيرَاتُ الْأَنْبِيَاءِ مَا وُلِدَ۔“ (عوارف المعارف جلد ا صفحه ۴۵ مطبوعہ الوہیۃ البہیہ قاہرہ مصر شعبان ۱۲۹۲ھ ) یعنی مرید اپنے پیر کے جسم کا حصہ بن جاتا ہے جس طرح بیٹا اپنے باپ کا ولادت طبعی میں۔مرید کا یہ پیدا ہونا حقیقی پیدا ہونا نہیں بلکہ معنوی اور استعاری طور پر ہوتا ہے جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کوئی شخص خدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوسکتا۔جب تک کہ وہ دو دفعہ پیدا نہ ہو۔ولادت طبعی (حقیقی) میں انسان کا تعلق دنیا سے ہوتا ہے۔مگر ولادتِ معنوی میں اس کا تعلق آسمان ( ملکوت اعلیٰ ) سے ہوتا ہے۔یہی معنے اس آیت کے ہیں کہ ہم نے اسی طرح ابرا ہیم کو ملکوت سماوی وارضی دکھا ئیں تا کہ وہ یقین کرے۔دراصل حقیقی اور کامل یقین اسی ولادت معنوی سے ہی حاصل ہوتا ہے اور اسی ولادت کے باعث انسان وراثت انبیاء کا مستحق ہو جاتا ہے اور جس شخص کو وراثت انبیاء نہ ملی وہ پیدا نہ ہوا۔“