مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 621
621 ایک دھوکا بعض مخالفین حضرت اقدس کی بعض ایسی تحریرات پیش کر کے دھوکا دیا کرتے ہیں جن میں حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ میں چودھویں صدی کے سر پر آیا اور اس سے مراد۱۳۰۰ھ لیتے ہیں۔حالانکہ یہ غلط ہے ”صدی کے سر سے مراد صدی کے پہلے سال کے شروع ہونے سے دس سال پہلے یا ۲۰،۱۰ سال بعد تک کا زمانہ ہوتا ہے، یعنی جب پہلی صدی کے ۹۰،۸۰ سال گزر جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ انگلی صدی کا سرا آ پہنچا ہے۔اور جب اگلی صدی میں سے ۱۵،۱۰ سال گزر جاتے ہیں تب بھی وہ اس صدی کا سر ہی کہلاتا ہے کیونکہ یہی طریق کلام ہے کہ جب حساب رہا کوں کا ہو تو کسور حذف ہو جاتی ہیں یعنی ایک سے ۹ تک اور جب حساب صدیوں کا ہو تو اس کی کسور دہاکے ہوتے ہیں جو حذف کر دیے جاتے ہیں اور ہزاروں کے حساب میں کسور صدیاں ہوتی ہیں۔چنانچہ دیکھ لو آ نحضرت نے فرمایا تھا۔أَخْبَرَنِي إِنَّ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَ مِائَةَ سَنَةٍ وَلَا أَرَانِي إِلَّا ذَاهِبًا عَلَى رَأْسِ الستين ( الكرامه صفر ۳۸ از نواب حمد صدیق حسن خانصاحب مطلب شاہجہانی بھوپال ) کہ میں۶۰ سال کے سر پر ۴۲۸ پہنچوں گا۔اب حضور کی عمر پورے ۶۰ سال کی نہیں تھی بلکہ ۶۳ ، ۶۵ سال تھی۔جیسا کہ (تفریح الاذكياء في احوال الانبياء جلد۲ صفحہ ۳۰) کے حوالہ سے اوپر درج ہو چکا ہے اب ۶۳ یا ۶۵ کو بھی ۶۰ کا ”سر ہی کہیں گے کیونکہ اہل عرب میں کسور حذف کر دیئے جاتے ہیں۔۲۔اسی طرح سے نبر اس شرح عقائد نسفی صفحہ ۵۸۷ پر ہے وَ جَاءَ فِي رَوَايَةٍ أَنَّهُ يَمُكُتُ خَمْسًا وَّ أَرْبَعِينَ۔۔۔۔۔فَلَا يُنَافِيهِ حَدِيثُ اَرْبَعِينَ لأَنَّ النَّيْفَ كَثِيرًا مَا يُحْذَفُ “ کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ امام مہدی ۴۵ سال زندہ رہے گا۔یہ دوسری حدیث کے جس میں ۴۰ برس آتا ہے خلاف نہیں کیونکہ عام طور پر کسور کو رہا کوں میں سے حذف کر دیا جاتا ہے۔۔نواب صدیق حسن خانصاحب لکھتے ہیں:۔اولیت مائة تا بست و پنج سال از آغاز هر مائة محتمل است بلکه تا نصف مائة “ ( حج الكرامه صفحه ۱۳۴ مطبع شاہجہانی بھوپال ) ” کہ صدی کے سر سے مراد صدی کے شروع ہونے سے ۲۵ سال تک بلکہ ۵۰ سال تک ہوسکتی ہے۔غرضیکہ حضرت اقدس نے جس جس جگہ چودھویں صدی کے سر پر اپنا ظاہر ہونا یا آنا لکھا ہے تو اس سے مراد۱۲۹۰ھ ہی ہے نہ کہ ٹھیک ٹھیک ۱۳۰۰ھ۔پس اس دھوکہ سے بچنا چاہیے۔