مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 618 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 618

618 میں بھی اختلاف ہے۔ملاحظہ ہو:۔بعض ساٹھ برس کی اور بعض باسٹھ برس چھ مہینے کی اور بعض پینسٹھ برس کی کہتے ہیں مگر ارباب تحقیق تریسٹھ برس کی لکھتے ہیں۔“ (تفريح الاذكياء في احوال الانبياء باب تتمة در احوال جناب رسالتمآب جلد ۲ صفحہ ۳۳۰، ۳۳۱ مطبع نولکشور لکھنو) اب دیکھ لو کہ باوجود اس کے کہ آنحضرت کی پیدائش کے تمام حالات محفوظ ہیں پھر بھی حضور کی تاریخ ولادت کے متعلق اختلاف ہے اور یہ محض اندازہ کے باعث ہے۔پس اسی قسم کا اختلاف حضرت اقدس کی عمر کے متعلق بھی ہے۔اور مختلف مقامات پر محض انداز اعمر لکھی گئی ہے جو حساب کر کے اور گن کر نہیں بتائی گئی، جیسے عام طریق ہے کہ عمر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کرتے ہیں کہ فلاں کی عمر ۶۰۔۷۰ کی ہوگی۔وہ ۷۰ ۸۰ کا ہے میری عمر ۴۰ - ۴۵ سال کی ہے۔اب خواہ ۵ ۱۰ سال کا اختلاف کتنا اہم ہو پھر بھی طریق کلام یہی ہے۔پس محض اسی قسم کے اندازہ کو بطور دلیل پیش کرنا اور تناقض قرار دے کر اس پر اعتراض کرنا نادانی ہے۔تاریخ پیدائش کی تعیین ہم نے حضرت کی جو تاریخ ولادت لکھی ہے اس کے لئے مندرجہ ذیل دلائل ہیں۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں:۔(۱) عاجز بروز جمعہ چاند کی چودھویں تاریخ میں پیدا ہوا ہے۔“ (تحفہ گولڑو یه صفحه ۱۰۰ حاشیه طبع اول) (۲) ”میری پیدائش کا مہینہ پھاگن تھا۔چاند کی چودھویں تاریخ تھی، جمعہ کا دن تھا اور چھپلی رات کا وقت تھا۔“ ذکر حبیب از مفتی محمد صادق صاحب صفحه ۲۳۸ و صفحه ۲۳۹) اب مندرجہ بالا قطعی اور یقینی تعین سے کہ جس میں کسی غلطی یا غلط نہی کی گنجائش نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا از روئے حساب معلوم کرنا نہایت آسان ہے کیونکہ پھاگن کے مہینہ میں جمعہ کا دن اور چاند کی چودھویں تاریخ مندرجہ ذیل سالوں میں جمع ہوئیں:۔( تفصیل اگلے صفحہ پر ملاحظہ ہو )