مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 595
595 کے عرصہ تک بلکہ اس سے قریب فوت ہو جائے گا ( حاشیہ اشتہار ۲۰ اپریل ۱۸۸۶ ضمیمه اخبار ریاض ہند امرتسر مارچ ۱۸۸۶ء مشموله آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۴۸)۔مندرجہ بالا دونوں حوالہ جات میں حضرت اقدس نے صراحت فرما دی ہے کہ احمد بیگ کو اگر وہ زیادہ شوخی نہ کرے تو زیادہ سے زیادہ تین سال مہلت مل سکتی ہے، لیکن وہ شوخی کر کے جلدی فوت ہو جائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ایک قابل غورا مر! مندرجہ بالا عربی عبارت از آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۵۷۳ میں سے فقرہ اخِرُ الْمَصَائِبِ مونگ ( کہ تیرے خاندان پر جو آخری مصیبت آئے گی وہ تیری موت ہوگی ) خاص طور پر قابل غور ہے۔کیونکہ اس میں بھی ایک زبر دست پیشگوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احمد بیگ کو بتا دیا تھا کہ خدا تعالیٰ نے یوں مقدر فرمایا ہے کہ اس کی موت کو اس کے خاندان کے لئے ”آخری مصیبت بنائے ، اور اس کے بعد پھر کوئی مصیبت اس خاندان پر اس پیشگوئی کے ماتحت نہ آئے۔اس لئے احمد بیگ کی موت جب ۱۸۹۲ء میں ہوگئی تو آخِرُ الْمَصَائِبِ مَوْتُک“ کے مطابق ضروری تھا کہ سلطان محمد اس کے بعد فوت نہ ہو۔غرضیکہ احمد بیگ کی موت کا واقعہ ہو جانا اور پیشگوئی کے مطابق واقع ہو جانا اس پیشگوئی کے عظیم الشان نتائج کی خوشخبری دیتا تھا جو اس خاندان کے اکثر افراد کے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کی صورت میں نمودار ہوئے۔اور اس طرح سے یہ پیشگوئی اس خاندان کے اس مطالبہ فَلْيَأْتِنَا بِايَةٍ إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ( اگر یہ سچا ہے تو نشان دکھائے ) کے جواب میں ایک زبر دست نشان ثابت ہوئی، جس نے ان لوگوں کی جود ہر یت اور ارتداد کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے، کایا پلٹ دی اور ان کو خدا کے پیارے مسیح موعود کی شناخت اور قبولیت کی روشنی سے منور کر دیا۔دہریت کی جگہ اسلام نے اور ارتداد کی جگہ تعلق و محبت رسول نے لے لی۔اور یہی وہ عظیم الشان تغیر ہے جسے دنیا میں پیدا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء تشریف لائے اور جس کی جھلک خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ داروں میں اس پیشگوئی کے ذریعہ دکھائی۔حضور فرماتے ہیں:۔ا۔کس قدر میرے دعوی کی تائید میں مجھ سے نشان ظاہر ہوئے ہیں اور جو کچھ کہا جاتا ہے کہ