مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 594
594 سال کا وعدہ کیا گیا۔پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ پیشگوئی انسانی دماغ کا اختراع نہ تھا۔دوسرا امر جو اس میعاد کے تعین سے معلوم ہوتا ہے ، وہ یہ کہ یہ پیشگوئی جذبات انسانی کے نتیجہ میں نہیں کی گئی تھی کیونکہ زیادہ قصور احمد بیگ کا تھا اور وہ مستہز مین اور مکفرین کے گروہ میں شامل تھا۔نیز رشتہ کے لئے اسی کے ساتھ سلسلہ جنبانی کیا گیا تھا، اور یہ سب کچھ اسی کے انکار کا نتیجہ تھا۔اور اگر جذبات انسانیہ کا کوئی اثر ہو سکتا تھا تو یہی کہ حضرت مسیح موعود طبعا احمد بیگ کی میعاد کم مقرر فرماتے مگر واقعہ اس کے خلاف ہوا جس سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ پیشگوئی جذبات کا نتیجہ نہ تھی بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو اطلاع دی اسی طرح سے شائع فرما دیا۔۔پیشگوئی میں زیادہ سے زیادہ مدت بتائی گئی تھی۔پس اگر احمد بیگ اور سلطان محمد اپنی اسی حالت پر بدستور قائم رہتے۔جس حالت میں کہ وہ پیشگوئی بیان کرنے کے وقت تھے تو ان کی موت کی میعاد علی الترتیب تین واڑھائی سال ہوتی۔مگر احمد بیگ اپنی پہلی حالت پر قائم نہ رہا اور لڑکی کا نکاح کر دینے کے بعد اور زیادہ شوخ ہو گیا ، اس لئے وہ میعاد مقررہ کے اندر بہت ہی جلد پکڑا گیا۔بخلاف سلطان محمد کے کہ اس نے اصلاح کی اور توبہ واستغفار کی طرف رجوع کیا۔كَمَا مَرَّ۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے احمد بیگ کی میعاد تین سال مقرر کر کے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ مہلت ہے جو احمد بیگ کو دی جاتی ہے۔اگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائے گا تو تین سال سے بہت پہلے جلد ہی مرجائے گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے احمد بیگ کو جو خط ۱۳۰۴ھ میں لکھا تھا۔اس میں حضور نے تحریر فرمایا تھا۔وَ آخِرُ الْمَصَائِبِ مَوْتُكَ فَتَمُوتُ بَعْدَ النِّكَاحِ إِلَى ثَلَاثِ سِنِينَ، بَلْ مَوْتُكَ قَرِيبٌ “ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۷۳) کہ تیرے خاندان پر جو آخری مصیبت آئے گی وہ تیری موت ہوگی تو روز نکاح سے تین سال کے عرصہ میں مرجائے گا بلکہ تیری موت اس سے بھی قریب ہے۔ب۔حضرت مسیح موعود اپنے اشتہار ۲۰ را پریل ۱۸۸۶ء میں تحریر فرماتے ہیں:۔خدا نے اس عاجز کے مخالف اور منکر رشتہ داروں کے حق میں نشان کے طور پر یہ پیشگوئی ظاہر کی ہے کہ ان میں سے جو ایک شخص احمد بیگ ہے اگر وہ اپنی لڑکی اس عاجز کو نہیں دے گا تو تین برس