مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 541 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 541

541 ا۔”عُتُمُ عُتُمُ عُتُم “ بے معنی فقرہ ہے جواب الف:۔تمہارے جیسے داناؤں نے حضرت شعیب کو کہا تھا کہ يُشْعَيْبُ مَا نَفَقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُوْلُ (هود : ۹۲) اے شعیب ! تیری اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ب۔حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔قرآن مجید کے سب معنے سمجھنے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔۔۔مقطعات قرآنی ایسے حروف 66 یا الفاظ ہیں جواہل عرب کی اصطلاح میں کسی معنے کے لئے موضوع نہیں۔“ علم الکلام ترجمہ اردو الاقتصاد فی الاعتقاد صفحه ۵۶) غُتُم ثم قم حضرت اقدس علیہ السلام کا کوئی الہام نہیں ہے۔بلکہ غَشَمَ غَشَمَ غَثَمَ لَهُ ہے اور اس کے معنی ہیں اس کو مال یکدم دیا گیا۔الہام کے ساتھ ترجمہ بھی الہام ہوا ہے۔الہام کے یہ الفاظ ہیں غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَهُ دَفَعَ إِلَيْهِ مِنْ مَّالِهِ دَفْعَةً۔( تذكره صفحه ۲۶۶ مطبوعہ ۲۰۰۴ء ) دیا گیا اس کو مال اس کا۔لغت میں ہے : غَدُمًا لَهُ دَفَعَ لَهُ دَفْعَةٌ جَيْدَةً مِّنَ الْمَالِ (منجد زیر لفظ غشم) کہ عثم کے معنے ہیں اس کو یکدم مال دیا گیا۔پھر عربی انگریزی ڈکشنری ”الفرائد الدریہ میں لکھا ہے:۔To give at once to any one۔یکدم کسی کو مال دینا۔پس یہ الہام بے معنے نہیں اور تمہارا اس کو غُتُم غُتُم پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی بد زبان دشمن اسلام الح کو الم الم پڑھ کر اس پر تمسخر اڑائے۔نیز دیکھو لسان العرب میں لکھا ہے:۔غَثَمَ لَهُ مِنَ الْمَالِ غَيْمَةً إِذَا دَفَعَ لَهُ دَفْعَةً كَ يا غَثَمَ له کے معنے لفظاً لفظاً لغت میں وہی ہیں جو حضرت اقدس کے الہام میں ہیں۔نیز دیکھو قرب الموارد۔۲۔ایک ہفتہ تک کوئی باقی نہ رہے گا“ بے معنی ہے جواب: - خدا تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (الحج: ۴۸)‘ کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ایک دن انسانوں کے ہزار سال کے برابر ہے اور انجیل میں بھی ہے۔یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خدا وند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر