مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 526
526 حضرت اقدس علیہ السلام اپنے اشتہار ۱۸/ اپریل ۱۹۰۵ء متعلقہ زلزلہ مذکور میں تحریر فرماتے ہیں:۔جب خدا تعالیٰ اس وحی کے الفاظ میرے دل پر نازل کر چکا تو ایک روح کی آواز میرے کان میں پڑی جو ایک ناپاک روح تھی اور میں نے اس کو کہتے سنا میں سوتے سوتے جہنم میں پڑ گیا۔(دیکھواشتہار ۱۸ راپریل ۱۹۰۵ء بعنوان الانذار آخری صفحہ ) پس اس الہام میں یہ بتایا گیا کہ وہ زلزلہ رات کو آئے گا جبکہ بعض بد کار سوتے سوتے واصل جہنم ہو جائیں گے۔( تذکرہ صفحہ ۲۵۲ ایڈیشن نمبر۴ ) ۲۸۔ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں جواب:۔اس کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تشریح فرمائی:۔یعنی خائب و خاسر کی طرح تیری موت نہیں ہے اور یہ کلمہ کہ ہم مکہ میں مریں گے یا مدینہ میں اس کے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت کی فتح نصیب ہوگی جیسا کہ وہاں دشمنوں کو قہر کے ساتھ مغلوب کیا گیا تھا اسی طرح یہاں بھی دشمن قہری نشانوں سے مغلوب کیے جائیں گے۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ قبل از موت مدنی فتح نصیب ہوگی۔خود بخو دلوگوں کے دل ہماری طرف مائل ہو جائیں گے۔فقرہ كَسَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِی مکہ کی طرف اشارہ کرتا ہے اور فقرہ سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِيمٍ مدینہ کی طرف۔البشری جلد ۲ صفحه ۱۰۶ و تذکره صفحه ۵۰۳ مطبوعه ۲۰۰۴ء والحکم جلده انمبر ۲ مورخه ۷ ارجنوری ۱۹۰۶ ء صفحه۳) کیا پیپر منٹ بھی بولتا ہے؟ ۲۹۔خاکسار پیپرمنٹ الجواب :۔یہ حضرت اقدس علیہ السلام کا کشف ہے۔آپ کو ایک شیشی دکھائی گئی جس کے لیبل پر لکھا تھا ” خاکسار پیپر منٹ، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس بیماری کا جس میں آپ اس وقت مبتلا تھے علاج پیپر منٹ ہے۔( تذکرہ صفحہ ۲۴۳ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) پیپر منٹ تو نہیں بولا مگر تم ذرا بخاری میں پڑھو جہاں لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نگے نہا رہے تھے کہ پتھر جس پر آپ نے کپڑے رکھے ہوئے تھے آپ کے کپڑے لے کر بھاگ گیا اور آپ اس کے پیچھے دوڑے۔اسے پکڑ کر سوٹیاں ماریں۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم اب تک اس پتھر پر حضرت موسی کی سوٹیوں کے نشان موجود ہیں۔فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ فَخَرَجَ مُوسَى فِي أَثَرِهِ