مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 527
527 يَقُولُ ثَوْبِيَ الْحَجَرُ ثَوْبِيَ الْحَجَرُ۔(بخاری کتاب الصلوۃ باب مَنِ اغْتَسَلَ عُرْيَانًا۔نیز مشکوة کتاب بدء الـحـق باب ذکر الانبیاء ) کہ حضرت موسی ایک دفعہ نہانے گئے اور اپنے کپڑے اتار کر آپ نے ایک پتھر پر رکھے۔پس وہ پتھر بھاگ گیا اور موسی اسکے پیچھے ننگے بھاگے۔بھاگتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے اے پتھر ! میرے کپڑے دے جا، او پتھر میرے کپڑے دے جا۔تمہارے ہاں پتھر کپڑے اٹھا کر بھاگ سکتا ہے۔مسجد نبوی کا شہتیر اور یعفور گدھا باتیں کر سکتے ہیں ، لیکن اگر ہمارے ہاں عالم کشف میں کسی شیشی کے لیبل پر خاکسار پیپر منٹ“ لکھا ہوامل جائے تو اس پر بھی اعتراض کر دیتے ہو۔حالانکہ اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔یہ ایک کشفی نظارہ ہے جس میں علاج کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور ظاہر ہے کہ اس میں کوئی امرمحل اعتراض نہیں کیونکہ لکھا ہے کہ تمام علم طب اور علم تا خیر الا دو یہ الہامی ہے۔ملاحظہ ہو:۔قَدْ ثَبَتَ أَنَّ عِلْمَ الطَّبِ وَمَنَافِعَ الأدْوِيَّةِ وَمَضَارَّهَا إِنَّمَا عُرِفَتْ بِالْوَحْيِ۔“ نبراس شرح الشرح العقائد نفسی صفحہ ۴۲۷ ) کہ یہ امر ثابت ہو گیا ہے کہ علم طب۔ادویہ کے فوائد اور نقصانات محض وحی الہی سے معلوم ہوئے ہیں۔فلا اعتراض ٣٠ - أَفْطِرُ وَاصُومُ جواب۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی تشریح فرماتے ہیں: ظاہر ہے کہ خداروزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اُس کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے۔پس یہ صرف ایک استعارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی میں اپنا قہر نازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دُوں گا۔اُس شخص کی مانند جو بھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے۔اور اس قسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ میں بیمار تھا۔میں بھوکا تھا۔میں نگا تھا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۰۷) ۲۔پھر فرماتے ہیں: میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو میں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصہ برس کا میں روزہ رکھوں گا۔یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہو جائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔“ ( دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۲۷، ۲۲۸ نیز دیکھو تذکره صفحه ۳۴۶ مطبوعه ۲۰۰۴ء)