مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 516
516 تلخیص المفتاح مطبع مجتبائی کے صفحہ ۲۶ پرلکھا ہے:۔وَقَدْ يُطْلَقُ الْمَجَازُ۔۔۔بِحَذْفِ لَفْظِ أَوْ زِيَادَةِ لَفْظِ كَقَوْلِهِ تَعَالَى وَ جَاءَ رَبُّكَ أَيْ اَمُرُرَبِّكَ ، یعنی بعض دفعہ مجاز میں کوئی لفظ حذف کیا جاتا ہے یا زیادہ کیا جاتا ہے۔جیسے خدا تعالیٰ کا فرمانا جَاءَ رَبُّكَ کہ تیرا رب آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم آیا۔پس كَأَنَّ اللَّهَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ کا مطلب بھی صاف ہے کہ خدا کی رحمت۔خدا کے فضل۔خدا کے جلال اور اس کے حکم کا نزول ہوتا ہے۔١٩ - يَتِمُّ اِسْمُكَ وَلَا يَتِمُّ اسْمِى تیرا نام پورا ہو جائے گا مگر میرا ( خدا کا ) نام پورا نہ ہوگا۔الجواب: - حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اس الہام کی تشریح فرمائی ہے:۔ا۔براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ ۲۶۷ حاشیہ در حاشیہ نمبر میں الہام یا أَحْمَدُ يَتِمُّ اِسْمُكَ وَلَا يَتِمُّ اِسْمِی درج فرما کر اس کے آگے بین السطور تحریر فرماتے ہیں :۔” آئی أَنْتَ فَانِ فَيَنْقَطِعُ تَحْمِيدُكَ وَلَا يَنْتَهِي مَحَامِدُ اللهِ فَإِنَّهَا لَا تَعُدُّ وَلَا تُحْصى ، یعنی اس الہام کا مطلب یہ ہے کہ اے احمد! تو فوت ہو جائے گا اور تیرے کمالات اور محامد ختم ہو جائیں گے۔مگر خدا کے محامد ختم نہیں ہوں گے کیونکہ وہ لا تعداد اور بے شمار ہیں۔۲۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحه ام پر تحریر فرماتے ہیں: إِذَا آنَارَ النَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّهِ أَوْ بَلَّغَ الْأمْرَ بِقَدْرِ الْكِفَايَةِ فَحِيْنَئِذٍ يَتِمُّ اِسْمُهُ وَيَدْعُوْهُ رَبُّهُ وَيُرْفَعُ رُوْحُهُ إِلَى نُقْطَتِهِ النَّفْسِيَّةِ۔“ یعنی جب انسانِ کامل لباس خلافت زیب تن کر لیتا ہے اور اس کے بعد یہ بندہ زمین پر ایک مدت تک جو اس کے رب کے ارادہ میں ہے توقف کرتا ہے تا کہ مخلوق کو نور ہدایت کے ساتھ منور کرے اور جب خلقت کو اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن کر چکایا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کر دیا پس اس وقت اس کا نام پورا ہو جاتا ہے۔اور اس کا رب اس کو بلاتا ہے اور اس کی روح اس کے نقطہ نفسی کی طرف اٹھائی جاتی ہے۔گویا وہ فوت ہو جاتا ہے۔پس الهام يَتِمُّ اِسْمُكَ وَلَا يَتِمُّ اِسْمِ کا مطلب یہ ہے کہ تو فوت ہو جائے گا مگر میں (یعنی خدا) فوت نہیں ہوں گا۔فلا اعتراض۔