مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 492
492 مرادا تصال ہے یعنی وہ میرے قریب ہیں۔(۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علم، حسن خلق اور پر ہیز گاری کے متعلق فرمایا:۔قلات مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيْهِ فَلَيْسَ مِنّى وَلَا مِنَ اللهِ۔(معجم الصغير الطبراني جلدازي من اسمه عبدالوهاب ) (۵) وفیات الاعیان لابن خلکان میں ہے:۔بَلُ هَذَا كَمَا يُقَالُ مَا أَنَا مِنْ فَلان وَلَا فَلانٌ مِنِّى يُرِيدُونَ بِهِ الْبُعْدُ مِنْهُ وَالْانفَةُ وَمِنْ هَذَا قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَدُ الزِّنَا لَيْسَ مِنَّا وَعَلِيٌّ مِنِّى وَاَنَا مِنْهُ وفيات الاعيان۔ذكر ابو تمام الطائی ) کہ ابوتمام کا قول لَسْتُ مِنْ سَعُود اسی طرح ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ میں فلاں آدمی سے نہیں ہوں اور نہ وہ مجھ سے ہے۔اہل زبان کی مراد اس سے اس شخص سے بعد اور نفرت کا اظہار ہوتا ہے اور ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے کہ ولد الز نا ہم میں سے نہیں اور یہ کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں۔(۶) عرب شاعر عمر و بن شاش اپنی بیوی سے کہتا ہے۔فَإِن كُنتِ مِنّى أو تُرِيدِيْنِ صُحْبَتِى (ديوان الحماسه صفحه ۴۳ مکتبہ اشرفیہ قول عمرو بن شاس) کہ اگر تو مجھ سے ہے اور میری مصاحبت چاہتی ہے۔پس انتَ مِنِّی وَاَنَا مِنْكَ کا مطلب یہ ہے کہ تجھے مجھ سے محبت ہے اور مجھے تجھ سے۔تیرا وہی مقصد ہے جو میرا ہے۔(۷) مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری آیت مَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنّى (البقرة:۲۵۰) کا ترجمہ اپنی تفسیر ثنائی میں یوں کرتے ہیں: "جو شخص اس ( نہر ) سے پئے گا وہ میری جماعت سے نہ ہوگا اور جو نہ پئے گا تو وہ میرا ہمراہی ہوگا۔“ ( تفسیر ثنائی جلدا تفسیر زیر آیت مَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي۔البقرة: ٢۴٩) ۲۔الف - اَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ أَوْلَادِى ب - أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِى جواب:۔۱۔حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ بیٹوں سے پاک ہے (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۹ حاشیه ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: