مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 376
376 کیونکہ وہاں لفظ خاتم تاء کی زبر کے ساتھ اسم آلہ ہے اور عربی میں جب یہ لفظ جمع کی طرف مضاف ہو۔اس کے معنے بلا استثناء ہمیشہ افضل کے ہوتے ہیں۔کیا کوئی ہے جو ہمارے اس چیلنج کو توڑ سکے؟ نہ خنجر اٹھے گا نہ تلواران سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں حضرت مسیح موعود اور لفظ ”خَاتَم “ کا استعمال بعض غیر احمدی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض اُردو کتب سے ” خاتم الاولاد “ اور ” خاتم الخلفاء “ وغیرہ کے محارے پیش کیا کرتے ہیں تو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ عربی زبان میں اگر لفظ خاتم صیغہ جمع کی طرف مضاف ہو تو تو محارہ عربی کے مطابق اس کے معنی بجز افضل کے نہیں ہوتے۔اردو فارسی اور پنجابی میں اگر یہ لفظ ” بند کرنے والے“ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہو تو اس سے مخالف کو کوئی فائدہ نہیں۔جیسا کہ لفظ مکر کی مثال سے واضح کیا جا چکا ہے کہ یہ لفظ اردو، فارسی اور پنجابی میں دھوکہ اور فریب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے لیکن عربی میں محض تدبیر کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں " مَكَرُوا وَمَكَرَ الله وَالله خَيْرُ الْمُكِرِينَ “ (ال عمران: (۵۵) والی آیت میں لفظ مکر اللہ تعالیٰ کی نسبت استعمال ہوا ہے۔ا۔اگر حضرت مسیح موعود کی کسی اُردو عبارت میں لفظ ” خاتم الاولاد“ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اس کا اس بحث میں پیش کرنا مفید نہیں۔کیونکہ ہماری بحث قرآن مجید کی آیت خاتم النبین“ سے متعلق ہے جو اردو میں نہیں بلکہ عربی زبان میں ہے۔۲۔تریاق القلوب صفحہ ۱۵۷ طبع اول و صفحه ۳۰۰ طبع ثانی کی تمہاری پیش کردہ عبارت یہ ہے:۔”میرے ساتھ ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی جس کا نام جنت تھا اور پہلے وہ لڑکی پیٹ میں سے نکلی تھی اور بعد اس کے میں نکلا تھا اور میرے بعد میرے والدین کے گھر میں اور کوئی لڑکی یا لڑکا نہیں ہوا اور میں اُن کے لئے خاتم الاولاد تھا۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۷۹) اس عبارت میں خاتم الاولاؤ سے مراد اولاد کا سلسلہ بکلی منقطع کرنے والا نہیں ہوسکتا کیونکہ کیا آپ کے والدین کی اولاد کا سلسلہ آپ کے بعد ختم ہو گیا؟ نہیں بلکہ آپ کے والدین کی اولاد کا سلسلہ آپ کے ذریعہ سے چلا اور آپ خاتم الاولاد ان معنوں میں ہوئے کہ آپ کے والدین کی اولاد کا سلسلہ آپ کے سوا دوسرے بچوں کے ذریعہ سے منقطع ہو گیا۔لیکن صرف آپ کے ذریعہ سے آگے