مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 375 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 375

375 پھر اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ کافروں کی حرکت قلب بند ہوگئی لیکن ظاہر ہے کہ یہ غلط ہے۔(۳):۔کیا ان کافروں میں سے کوئی مسلمان نہیں ہوتا ؟ (۴):۔زیادہ سے زیادہ تم اس کے یہی معنے کرو گے کہ کافروں کے دلوں پر خدا نے مہر کر دی۔اب ان کے دل میں ایمان کی بات داخل نہیں ہو سکتی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کافروں کے دل میں کیا کوئی کفر اور بدی کی بات بھی داخل ہو سکتی یا ان کے دل پر اثر کر سکتی ہے یا نہیں؟ ظاہر ہے کہ جو چیزان کے دل کے اندر موجود ہے ( یعنی کفر ) اس کی تائید اور تصدیق کرنے والی چیزوں کے داخل ہونے کے لئے ان کے دل کے دروازے کھلے ہیں بند نہیں ہوئے۔ہاں اس کے خلاف ( ایمان یا ہدایت وغیرہ) کی باتوں کے لئے دروازہ بند ہے۔پس تمہارے معنوں کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوا کہ جس چیز پر مہر لگائی جائے اس کے مؤید کے لئے دروازہ بند نہیں ہوتا بلکہ اس کے مخالف کے لئے بند ہوتا ہے۔پس اگر خَاتَمُ النَّبِيِّينَ “ کے آیت کے معنی بھی اس اصول کے ماتحت لیتے ہو۔تو اس کا مطلب یہ بنے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے خلاف کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ہاں آپ کی تائید کے لئے نبی آ سکتا ہے۔یا در ہے کہ یہ معنی ہم نے تمہارے معنوں کو تسلیم کر کے لکھے ہیں۔ہمارے نقطۂ نگاہ سے اس کے معنوں کے لئے مندرجہ بالا حدیث پر غور کرو تو معنے یہ ہوں گے کہ کافروں کے دلوں میں جو گند ہے خدا اس کا اظہار اپنی مہر کے ذریعہ کرتا ہے یعنی یہ تصدیق کرتا ہے کہ ان کے دلوں میں گند بھرا ہے اور یہ ،، لهُ هُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (البقرة: وہ ایسے ہٹ دھرم ہیں کہ باوجود صداقت کے کھل جانے کے پھر بھی ایمان نہیں لاتے گویا ان کا ایمان نہ لانا خدا تعالیٰ کی مہر کے نتیجہ میں نہیں۔جیسا کہ تمہارا خیال ہے کیونکہ اس طور پر خدا تعالیٰ کی ذات مورد اعتراض بنتی ہے کہ اگر وہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس میں ان کا کیا قصور؟ خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی۔اب وہ بیچارے کا فر رہنے پر مجبور ہیں۔لیکن ہمارے نزدیک یہ بات نہیں بلکہ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ان کی اندرونی کیفیت کو بے نقاب کر دیا ہے اور اس کے گندہ اور قابل نفرت ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔بہر حال تم قرآن مجید کی کوئی بھی آیت پیش نہیں کر سکتے۔جس میں ختم “ کا مشتق کلی طور پر بند کرنے کے معنوں میں استعمال ہوا ہو۔اور اگر ایسا ہو بھی تو آیت خَاتَمَ النَّبِيِّينَ پر اس کا اثر نہیں