مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 359
359 اب کیا حضرت عباس کے بعد کوئی مہاجر نہیں ہوا ؟ حضرت مولوی رحمت اللہ صاحب مہاجر مکی کے علاوہ آج تک ہزاروں لوگوں نے ہجرت کی اور قیام پاکستان کے بعد تو ایسی ہجرت“ ہوئی جس کی مثال ہی نہیں ملتی۔پس ثابت ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عباس کو ان معنوں میں خاتم المہا جرین قرار دیا ہے کہ ان کے بعد ان کی شان کا کوئی مہاجر نہ ہوگا۔اگر کہو کہ یہاں صرف مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے مہاجرین کا حضرت عباس کو خاتم قرار دیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں تو ملکہ کا کوئی لفظ نہیں۔جس لفظ ( یعنی الف لام ) کی تخصیص سے تم مکہ کی قید نکالتے ہو۔اسی الف لام کی تخصیص سے ہم خاتم النبیین کے معنے صاحب شریعت نبیوں کا ختم کرنے والا کریں تو اس پر اعتراض کیوں؟ نوٹ:۔بعض غیر احمدی کہا کرتے ہیں کہ اگر خاتم بمعن افضل“ لیا جائے تو لازم آئے گا کہ حضرت عباس ابو بکر و عمر وعلی رضوان اللہ علیہم بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی نعوذ باللہ افضل ہوں کیونکہ یہ بھی سب مہاجرین ہیں۔جواب:۔ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ لفظ ” خاتم جب کسی صیغہ جمع کی طرف مضاف ہو تو اس میں موصوف کے بعد آنے والوں پر اس کی افضلیت مراد ہوتی ہے۔پس حضرت عباس رضی اللہ عنہ خاتم المہاجرین ہیں یعنی اپنے بعد میں آنے والے سب مہاجرین سے افضل ہیں۔اگر کوئی کہے کہ اس طرح تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبین ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہوگا کہ آپ اپنے بعد میں آنے والوں نبیوں سے افضل ہیں۔تو کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے انبیاء سے افضل نہیں ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک حضور اپنے سے بعد میں آنے والے نبیوں سے بوجہ خاتم النبین ہونے کے افضل ہیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سے پہلے ابنیاء سے بھی افضل ہیں کیونکہ حضور خود فرماتے ہیں:۔إِنِّي عِنْدَ اللَّهِ مَكْتُوبٌ خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَ إِنَّ ادَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ۔“ ،، ا۔مشکوۃ المصابيح كتاب الفتن باب فضائل سید المرسلين صلوات الله وسلام عليه الفصل الاوّل۔۲۔مسند احمد بن حنبل جلد ۴ صفحہ ۱۲۸ حدیث العرباض بن ساریه ۳ کنز العمال جلدا اصفحہ ۱۸۸ کتاب الرابع من حرف الفاء كتاب الفضائل من قسم الافعال باب الاول الفصل الثالث فی فضائل متفرقه تبنيعن التحديث بالنعم دار الكتب العلمیہ بیروت لبنان)