مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 358 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 358

358 کی ہستی معلوم ہو چونکہ دنیا سے خدا کی ہستی معلوم ہوتی ہے۔اس لئے اسے عالم کہتے ہیں۔اسی طرح خَاتَمُ ہے جس کے معنی يُخْتَمُ بِہ ہوں گے۔یعنی جس سے مہر لگائی جائے۔پس خاتم کا ترجمہ ختم کرنے والا نہیں ہو سکتا۔اسم فاعل میں عین کلمہ مکسور ہوتا ہے۔جیسے قاتل ناصر۔فاعل وغیرہ مگر خاتم میں میں کلمہ یعنی تا مکسور نہیں بلکہ مفتوح ہے۔۲۔عربی زبان میں ”حاتم بفتحہ تا ء جب کسی جمع کے صیغہ کی طرف مضاف ہو مثلاً خَاتَمُ الشُّعَرَاءِ، خَاتَمُ الْفُقَهَاءِ۔خَاتَمُ الْأَكَابِرِ۔خَاتَمُ الْمُحَدِّثِينَ۔خَاتَمُ الْأَوْلِيَاءِ۔خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينَ وغیرہ ہو تو اس کے معنے ہمیشہ بعد میں آنے والوں سے افضل“ کے ہوتے ہیں ہمارا غیر احمدی علماء کو چیلنج ہے کہ وہ عربی زبان کا کوئی مستعمل محاورہ پیش کریں جس میں خاتم کسی جمع کے صیغے کی طرف مضاف ہوا ہو اور پھر اس کے معنے بند کرنے والے کے ہوں کسی لغت کی کتاب لسان العرب، تاج العروس وغیرہ کا حوالہ دے دینا کافی نہ گا۔جب تک اہل زبان میں اس محاورہ کا استعمال نہ دکھایا جاوے لغت کی کتابیں لکھنے والے انفرادی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی کتابوں میں ان کے اپنے عقائد کا داخل ہو جانا یقینی ہوتا ہے۔مثلا المنجد اور الفرائد الدریہ دونوں عربی کی لغات ہیں جن کے مؤلف عیسائی ہیں اور انہوں نے ” ثالوث کا ترجمہ تثلیث مقدس The Holy Trinity کیا ہے۔اب مقدس کسی لفظ کا ترجمہ نہیں بلکہ مؤلف کا اپنا اعتقاد ہے بعینہ اسی طرح ایک لغت لکھنے والا اگر اس عقیدہ کا حامی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت بند ہے تو وہ طبعا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کا ترجمہ نبیوں کو ختم کرنے والا ہی کرے گا قرآن مجید میں خدا تعالیٰ نے لغات لکھنے والوں کا ترجمہ مد نظر رکھ کر خَاتَمُ النَّبِيِّينَ کا لفظ نہیں بولا بلکہ اس اسلوب بیان کو مدِ نظر رکھا ہے جو اہل زبان کا ہے لہذا ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ایک عرب جب خاتم کو کسی جمع کے صیغے مثلاً شعراء الفقهاء- المھاجرین وغیرہ کی طرف مضاف کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد کیا ہوتی ہے جس طرح یہ لفظ قرآن مجید میں مستعمل ہوا ہے۔ہما را دعوی ہے کہ اس طریق پر یہ لفظ ہمیشہ افضل کے معنوں میں آتا ہے۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے استعمال فرمایا ہے۔(۱) اِطْمَئِنَّ يَا عَمَ فَإِنَّكَ خَاتَمُ الْمُهَاجِرِينَ فِي الْهِجُرَةِ كَمَا أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ فِي النُّبُوَّةِ۔( کنز العمال از علامہ علا والدين حرف العين في ذكر العباس) ”اے چچا (عباس) آپ مطمئن رہتے کہ آپ اسی طرح خاتم المہاجرین ہیں جس طرح میں خاتم النبیین ہوں۔“