مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 308 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 308

308 ہستیوں کے متعلق فرمان الہی ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ (الزمر: ۴۳) کہ جس پر ایک دفعہ موت وارد ہو جائے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آسکتا۔دوم : اگر مسیح ناصری امت محمدیہ یا ساری دنیا کے لئے رسول ہو کر آئیں تو پھر قرآن مجید میں سے رَسُولاً إلى بني اسراءيل (ال عمران: ۵۰) کے الفاظ کاٹ دینے چاہئیں۔کیا ایسی صورت میں قرآن مجید کی نعوذ باللہ اصلاح کرو گے۔پس جس صورت میں قرآن مجید قیامت تک واجب العمل ہے تو پھر حضرت مسیح ناصری امت محمد یہ یا غیر اسرائیلی دنیا کی طرف نہیں آسکتے۔سوم : امت محمدیہ کو ارشاد ہوتا ہے: كُنتُمْ خَيْرَ اُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران: 1) کہ تم سب امتوں سے بہتر ہو۔اب اگر امت محمدیہ میں سے کوئی عیسی بن مریم نہ بنے تو یہ فرمان بے معنی بن جاتا ہے نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانیت کو بھی ناقص ٹھہرانا پڑے گا کیونکہ آپ کی قدوسیت ایک مسیح بھی نہ بناسکی بلکہ جب امت اصلاح کی محتاج ہوئی تو بنی اسرائیل کے ایک نبی کے زیر بار احسان ہونا پڑا(نعوذ بالله منه) چهارم : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح اور مسیح ناصری کا جو حلیہ بیان فرمایا ہے۔وہ بالکل متضاد اور متبائن ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والا صیح اور ہے صحیح ناصری اور ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ (بخارى كتاب بدء الخلق باب واذكر في الکتاب مریم ) کہ مسیح ناصری سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں اور چوڑے سینہ والا تھا۔پھر آنے والے موعود کے متعلق فرمایا فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا يُرَى مِنْ أَدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكَبَيْهِ رَجُلُ الشَّعْرِ (بخاری کتاب بدء الخلق باب واذكر في الکتاب مریم کہ اس کا رنگ گندمی ہوگا اور خوبصورت ہوگا۔اس کے سر کے بال پیٹھ پر پڑتے ہوں گے۔درمیانہ قد کا آدمی ہوگا۔پس معلوم ہوا کہ علیحدہ علیحدہ دو مسیح ہیں۔مسیح اور مہدی ایک ہیں اب اس بات کو ثابت کرنے کے بعد کہ آنیوالا سیخ ناصری نہیں، یہ بتادینا بھی مناسب ہے کہ