مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 307
307 جواب:۔یہ ایک جھوٹی اور جعلی روایت ہے۔چنانچہ اس کے سارے ہی راوی ضعیف ہیں۔پس یہ حضرت ابن عباس کا قول نہیں ہو سکتا۔خصوصا جب کہ بخاری شریف کی مستند روایات سے ان کا مذہب مُتَوَفِّيْكَ مُمِیتُک ثابت ہے تو اس کے بالمقابل یہ سراپا جعلی روایت کیا حقیقت رکھتی ہے؟ اس روایت کا پہلا راوی ہشام بن محمد السائب ہے قَالَ ابْنُ عَسَاكِرٍ رَافَضِيٌّ لَيْسَ بِشِقَةٍ عَنِ ابْنِ الْكَلْبِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاس (میزان الاعتدال از ابی عبدالله محمد احمد بن عثمان الذهبی ۷۴۸ه زیر لفظ هشام بن محمد السائب ) یعنی اس روای کی تمام وہ روایات جو اس نے اپنے باپ سے ابو صالح کی معرفت ابن عباس سے روایت کی ہیں ، سب ضعیف ہیں اور روایت متنازعہ بھی اسناد کے لحاظ سے بعینہ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ “ ہے، لہذا جھوٹی ہے۔-۲- دوسرا راوی محمد بن السائب الکلمی ہے۔یہ تو کذاب سبائی جماعت میں سے تھا جنہوں نے حضرت عثمان کو شہید کیا تھا اس کے متعلق عبد الواحد بن غیاث کا قول ہے جو عن مہدی منقول ہے کہ یہ راوی کلبی کا فر تھا۔معمر بن سلیمان کے باپ اور لیث بن ابی سلیم کا قول ہے:۔كَانَ مِنْ كُوْفَةٍ كَذَابَانِ اَحَدُهُمَا الْكَلْبِيُّ۔۔۔۔وَالْآخَرُ الْأَسَدِی کہ کوفہ میں دو کذاب تھے ایک تو یہی راوی کلبی اور دوسرا اسدی (تهذیب التهذيب ابن حجر عسقلانی زیر لفظ محمد بن سائب کلبی) یہ راوی امام الوضا عین تھا۔(فوائد المجموعه صفحه ۱۴۷) ابوصالح:۔اس کے متعلق لکھا ہے: أَبُو صَالِحٍ لَمْ يَسْمَعُ مِنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (تهذيب التهذيب زيـر لـفـظ محمد بن السائب و ميزان الاعتدال ذكر ابو صالح النخعی ) کہ ابوصالح نے نہ حضرت ابن عباس کو دیکھا اور نہ ان سے کوئی حدیث سنی۔پس یہ روایت از سرتا پا جعلی ہے۔حضرت مسیح ناصری امت محمدیہ کا موعود نہیں ہو سکتے حدیث نزول میں سے جس لفظ سے غلطی لگتی ہے وہ ” ابن مریم “ ہے۔ابن مریم سے کیا مراد ہے؟ سواس کی تشریح، صداقت حضرت مسیح موعود پر اعتراضات کے جواب میں ”ابن مریم بننے کی حقیقت کے ذیل میں کی گئی ہے۔(صفی۴ ۵۰) وہاں سے دیکھا جائے۔علاوہ ازیں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام امت محمدیہ کے موعود بوجوہ ذیل نہیں ہو سکتے۔اول: قرآن و حدیث سے مسیح کی وفات بالصراحت ثابت ہو چکی ہے اور وفات یافتہ