مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 296
296 (۴) چوتھا راوی ربیع بن انس البکری المصری ہے اس کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ ابْنُ مَعِينٍ كَانَ يَتَشَيَّعُ فَيُفْرِطُ النَّاسُ يَتَّقُونَ مِنْ حَدِيثِهِ مَا كَانَ مِنْ رَوَايَةِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْهُ لَانَّ فِي حَدِيثِهِ عَنْهُ اِضْطِرَابًا كَثِيرًا (تهذیب التهذیب از احمد بن حجر عسقلانی زیر لفظ ربیع بن انس البكرى المصری) کہ یہ راوی غالی شیعہ تھا اور جو روایت اس سے ابو جعفر عیسی بن ماہان کرے، اس روایت سے لوگ بچتے ہیں کیونکہ ایسی روایت سخت مخدوش ہوتی ہے ظاہر ہے کہ یہ لَم يَمُتُ والی روایت وہ ہے جو اس راوی سے ابو جعفر عیسی بن ماہان نے کی ہے لہذا قابل توجہ نہیں۔پس اول تو یہ روایت مرسلات حسن سے ہے اور اس وجہ سے حدیث مرفوع متصل نہیں۔دوسرے اس کے پانچ میں سے چار راوی ضعیف اور غیر ثقہ ہیں اور بعض شیعہ بھی۔پس سخت جھوٹی اور جعلی ہے۔حیات مسیح کی بارہویں دلیل انَّ عِيسَى يَأْتِي عَلَيْهِ الْفَنَاءُ - ( جامع البیان ابن جریر جلد ۳ صفحه ۱۶۳ الطبعة الثالثة ۱۹۲۸، مطبع مصطفی البابی الحلی مصر) جواب۔اس روایت کے راوی بھی وہی ہیں جو اِنَّ عِيسَى لَمْ يَمُتُ ( جامع البيان ابن جرير جلد ۶ صفحه ۱۹) والی روایت کے ہیں یعنی اسحاق بن ابراہیم بن سعید ، عبداللہ بن ابی جعفر ابو جعفر عیسی بن ماہان اور ربیع بن انس۔جن پر جرح پچھلی روایت پر بحث کے ضمن میں درج ہو چکی ہے۔حیات مسیح پر تیر ہویں دلیل يُدْفَنُ مَعِي فِي قَبْرِی (۱۔مشکواۃ کتاب الفتن باب نزول عیسیٰ عليه السلام بروایت ابن جوزى فى الكتاب الوفاء - ا مطبع مجیدی صفحه ۳۸۰ ، ۲ مطبع احمدی صفحه ۴۷۲) (۲۔شرح لشرح العقائد المسمى بالنبراس از حافظ محمد عبد العزيز الفرها روی ۱۳۱۳ھ صفحه ۵۸۶) جواب۔اس کے دس۱۰ جواب ہیں۔(۱) فرض کرو کہ آج حضرت عیسی آسمان سے نازل ہو کر مدینہ میں تشریف لے جا کر فوت ہو جا ئیں تو آنحضرت کی قبر مبارک کو کون سا سعید الفطرت مسلمان اکھاڑے گا؟ ہاں ممکن ہے کوئی احراری تیار ہو جائے۔