مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 295
295 مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ اَحَدٍ مِنْ اَهْلِ بَدْرٍ مُشَافَهَةً قَالَ التِّرْمَذِيُّ لَا يُعْرَفُ لَهُ سِمَاعٌ مِنْ عَلِيِّ (تهذيب التهذيب زير لفظ الحسن ) کہ حضرت حسن بصری نے کسی بدری صحابی سے بھی کوئی حدیث نہیں سنی۔امام ترمذی نے کہا ہے کہ حسن بصری کا حضرت علیؓ سے کوئی حدیث سننا ثابت نہیں۔۳۔علامہ شوکانی لکھتے ہیں :۔فَاِنَّ اَئِمَّةَ الْحَدِيثِ لَمْ يَثْبِتُوا لِلْحَسَنِ مِنْ عَلِيِّ سِمَاعًا (كتاب فوائد المجموع فی احادیث الموضوع صح ۸۳ مطبع محمدی لاہور ) کہ ائمہ حدیث کے نزدیک حضرت علی سے حضرت حسن بصری کا کوئی حدیث سننا ثابت نہیں۔( نیز دیکھوتکملہ مجمع البحار جلد ۳ صفحه ۵۱۸ زیر مج ارز ) ۴۔اس روایت کے چار راوی ضعیف ہیں (۱) اسحاق بن ابراہیم بن سعید المدنی نے اس کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ أَبُو ذَرُعَةٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ لَيْسَ بِقَوِيِّ وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ لِيْنُ الْحَدِيثِ تہذیب التہذیب و میزان الاعتدال زیر لفظ الحق بن ابراہیم بن سعد ) کہ ابو زرعہ نے کہا ہے کہ اس راوی کی حدیث قابل انکار ہے اور قومی راوی نہیں ہے۔ابو حاتم نے کہا کہ اس کی روایت کمزور ہوتی ہے۔(۲) دوسرا راوی عبد اللہ بن ابی جعفر عیسی بن ماہان ہے۔اس کی نسبت لکھا ہے۔قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ ابْنِ سَلَامٍ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ ابْنَ حُمَيْدٍ يَقُولُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أَبِي جَعْفَرَ كَانَ فَاسِقًا۔۔۔۔يُعْتَبَرَ حَدِيثُهُ مِنْ غَيْرِ رَوَايَتِهِ عَنْ أَبِيْهِ وَ قَالَ السَّاجِيُ فِيهِ ضُعُف (تهذيب التهذيب از احمد بن حجر عسقلانی زیر لفظ عبدالله بن ابی جعفر و میزان الاعتدال زیر لفظ عبدالله بن ابی جـعـفـر عيسى بن ماهان ) یعنی عبد العزیز بن سلام کہتے ہیں کہ یہ راوی فاسق تھا اور جوروایت یہ اپنے باپ سے کرے وہ لائق اعتبار نہیں ہوتی اور ساجی نے کہا ہے کہ اس راوی کی روایت کمزور ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ لَم يَمُتُ والی روایت اس راوی نے اپنے باپ سے ہی روایت کی ہے لہذا یہ روایت تو بہر حال مردود ہے۔(۳) تیسرا راوی اس دوسرے راوی عبد اللہ کا باپ ابو جعفر عیسی بن ماہان ہے۔اس کے تعلق لکھا ہے۔قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أَحْمَدَ عَنْ أَبِيهِ لَيْسَ بِقَوِي فِي الْحَدِيثِ۔۔۔۔۔قَالَ عُمَرُ ابْنُ عَلِيِّ فِيْهِ ضُعْفٌ۔۔۔۔۔قَالَ النَّسَائِي لَيْسَ بِالْقَوِيّ (تهذيب التهذيب زير لفظ ابو جعفر عیسیٰ بن ماهان و میزان الاعتدال ) یعنی امام احمد کے نزدیک یہ راوی قوی نہیں، عمر بن علی کے نزدیک ضعیف ہے اور نسائی اور بجلی کے نزدیک بھی قوی نہیں نیز اس راوی کو خطا کار اور سیئ الحفظ بھی کہا گیا ہے۔