مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 267
267 ۲- قَالَ السَّيُوطِئُ بَعْدَ أَنْ نَقَلَ غَيْرَ ذَلِكَ أَيْضًا فَهَذِهِ النُّقُولُ مُتَصَافِرَةٌ عَلَى مَا قَالُ ابْنُ مَالِك مِنْ عَدَمِ وُقُوعِ الْاِضْرَابِ الْإِبْطَالِى فِى الْقُرْآنِ (القصر المينى جلد اصفر ۵۸۳) که سیوطی نے بہت سے اقوال اور مثالیں نقل کر کے کہا ہے کہ یہ تمام مثالیں ابن مالک کے اس قول کی تائید کرتی ہیں کہ قرآن میں بل ابطالیہ نہیں آتا۔-٣- فَإِنَّ الَّذِى قَرَّرَهُ النَّاسِ فِى اِضْرَابِ الْإِبْطَالِ إِنَّهُ الْوَاقِعُ بَعْدَ غَلَطٍ اَوْ نِسُيَانِ أَوْتَبَدُّلِ رَأْيِ وَالْقُرْآنُ مُنَزَّةٍ عَنْ ذلِكَ (القصر المینی جلد اصفح ۵۸۲ ) کہ نحویوں نے لکھا ہے کہ بل ابطالیہ یا تو غلطی یا نسیان کے بعد آتا ہے اور یا تبدیلی کرائے کے موقع پر اور قرآن مجید میں یہ تینوں باتیں نہیں پائی جاسکتیں اس لئے قرآن مجید میں ابطالیہ نہیں آ سکتا۔فَجَوَابٌ إِنَّهُ يُحكى (برحاشیہ مغنی اللبیب زیر ذکر بل) کہ ابن مالک کے قول کا مطلب یہ ہے کہ حکایہ عن الغیر بل ابطالیہ آ سکتا ہے ورنہ نہیں۔استدلال نمبر ۲:۔قَتَلُوہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسی مع الجسم ہیں تو قعہ میں بھی حضرت عیسی مع الجسم اٹھائے گئے ہیں۔جواب نمبر :۔اول تو رفع کے معنی یہ نہیں لیکن اگر ہوں بھی تب بھی یہ ضروری نہیں کہ دَفَعَہ والی ضمیر کا مرجع حضرت عیسی مع الجسم ہی ہوں۔چنانچہ دیکھئے قرآن مجید میں ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيْلِ اللهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَ لكِنْ لا تَشْعُرُونَ (البقرۃ: ۱۵۵) نہ کہو ان لوگوں کو مردہ جو خدا کی راہ میں شہید کیے گئے بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس۔اب احیاء کا مبتداء محذوف هم ہے۔اس کا مرجع مَنْ يُقْتَلُ ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ وہ اسی جسم کے ساتھ زندہ ہیں حالانکہ لفظ منُ میں یہی جسم مراد ہے۔پس کیا ضرور ہے کہ ہم رَفَعَ میں جسم بھی مراد لیں۔پھر سورۃ عبس میں ہے قُتِلَ الْإِنْسَانُ مَا أَكْفَرَهُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ۔۔۔ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ (عبس: ۱۸ تا ۲۲) امَاتَهُ اور فَأَقْبَرَہ کی ضمائر کا مرجع الْإِنْسَانُ ہے جو روح اور جسم سے مرکب ہے مگر کیا قبر میں روح اور جسم دونوں اکٹھے رکھے جاتے ہیں؟ موت تو نام ہی إِخْرَاجُ الرُّوحِ مِنَ الْجَسَدِ کا ہے۔اگر روح مع الجسم مدفون ہو تو پھر زندہ دفن ہوا جو محال ہے پس یہاں اقبرہ کی ضمیر کا مرجع انسان بمعنی مجرد جسم ہوگا۔علم بدیع کی اصطلاح میں اسے صنعت استخدام کہتے ہیں۔وَ مِنْهُ الْإِسْتِخْدَامُ وَ هُوَ أَنْ يُرَادَ