مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 245
245 نہیں ہوتا۔حالانکہ نزول سے آسمان پر جانا اور قتل دجال کے ذکر سے بعینہ ان کا زندہ رہنا ثابت (تفصیل اپنی جگہ پر دیکھیں) دوسری دلیل : اِذْ قَالَ اللَّهِ يُعِيسَى إِلى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىٰ وَمُطَهَرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِمَةِ (آل عمران: ۵۲) ترجمہ: جب فرمایا اللہ تعالیٰ نے اے عیسی میں ہی تجھے وفات دینے والا ہوں اور عزت دینے والا ہوں تجھ کو اور یہود نا مسعود کے اعتراضات سے تجھے بری الذمہ کرنے والا ہوں اور تیرے ماننے والوں کو قیامت تک نہ ماننے والوں پر غالب کرنے والا ہوں۔استدلال : اللہ تعالیٰ نے مُتَوَفِّیک کو پہلے رکھا ہے ، ہمارا کوئی حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ترتیب کو بدلیں ورنہ اس کی حکمت پر الزام آئے گا کہ اس نے اس چیز کو جو پیچھے تھی بلا وجہ آگے کر دیا (نعوذ باللہ ) دوم:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حضور پہلے صفا کا طواف کریں گے یا مروہ کا۔آپ نے فرمایا: - اَبدَءُ بِمَا بَدَأَ الله اس سے شروع کرتا ہوں جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔پس ہمیں بھی وہی پہلے رکھنا چاہیے جس کو اللہ تعالیٰ نے پہلے رکھا ہے۔( نیز دیکھو حمدیہ پاکٹ بک صفحه ۵۹۳ ناشر مطبع المكتبة السلفية شیش محل روڈ لاہور۔بحوالہ مسلم وجلالین ) سوم :۔اگر مُتَوَ فیک کو پیچھے کیا جائے تو ساری ترکیب ہی درہم برہم ہو جائے گی اور صحیح طور پر مُتَوَفِّیک کی کوئی جگہ نہ ہوگی۔کیونکہ وعدہ نمبر ۴ اب شروع ہے اور الی یوم القیامۃ رہے گا۔توفی کے معنے اوپر گزر چکے ہیں اور رفع کے معنے بَلْ زَفَعَهُ اللهُ الیه (النساء:۱۵۹) کی بحث میں ملاحظہ کریں۔غیر احمدی:۔واؤ ترکیب کے لیے نہیں ہوتی جیسا کہ قرآن مجید کی آیت وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْدَةَ (النحل: ۷۹) میں ہے۔جواب :۔آیت محولہ میں تو نہایت پر معارف ترتیب ہے کیونکہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت اس کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ہاں کان کھلے ہوتے ہیں ہن سکتا ہے اسی لئے سب سے پہلے اس کے کان میں اذان دینے کا حکم ہے۔پس اس وجہ سے قرآن مجید میں سمع (سنے کو ) پہلے رکھا گیا ہے۔دیکھنے کی وقت بعد میں ظاہر ہوتی ہے۔اس لیے ابصار کو بعد میں بیان کیا گیا ہے اور چونکہ عقل اور سمجھ