مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 240
240 - عَنْ عُثْمَانَ أَنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ وَ كُنتُ مِنْهُمْ فَقُلْتُ لَابِي بَكْرٍ تَوَفَّى اللهُ نَبِيَّة الخ۔( کنز العمال جلدے صفحہ ۳ ۷ مصری ) توفی کے لیے انعامی اشتہار چونکہ متنازعہ فیہ جگہ میں توقی باب تفعل سے ہے اور اللہ تعالیٰ فاعل ہے اور ذی روح یعنی حضرت عیسی مفعول ہیں اس لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی صورت میں توفی کے معنے سوائے قبض روح کے دکھانے والے کو ایک ہزار روپیہ انعام مقررفرمایا ہے مگر آج تک کوئی مرد میدان نہیں بنا جو یہ انعام حاصل کرتا اور نہ ہی ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔بعض غیر احمدی مولوی کہا کرتے ہیں کہ تم نے توفی کے متعلق یہ قاعدہ کہاں سے لیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل کوئی ذی روح مفعول ہو تو اس کے معنی قبض روح یا موت کے ہوتے ہیں؟ تو اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قاعدہ کوئی من گھڑت قاعدہ نہیں ہے بلکہ کتب لغت میں مذکور ہے جیسا کہ قاموس ، تاج العروس اور لسان العرب میں ہے۔ا تَوَفَّهُ اللهُ۔قَبَضَ رُوحَهُ ) قاموس زیر لفظ و فی ) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس ذی روح کی توفی کی یعنی اس کی روح قبض کرلی۔اس حوالہ میں لفظ تَوَفّی باب تفعل سے ہے۔اللہ فاعل مذکور ہے اور ہ کی ضمیر بھی جو ذی روح کی طرف پھرتی ہے اس کے معنے قبض روح صاف طور پر لکھے ہیں۔اسی طرح تاج العروس زیر لفظ و فی جلد ۲۰ اور لسان العرب زیر لفظ وفی کے حوالے پہلے صفحہ ۲۳۸ پر درج ہو چکے ہیں۔۲ - تَوَفَّاهُ اللهُ اى قَبَضَ رُوحَهُ - اللہ تعالٰی نے فلاں شخص کی توفی کی یعنی اس کی روح کو قبض کیا۔(صحاح الجوهری از اسماعیل بن حماد الجو ہری الجزء السادس زیر لفظ وفی)۔استقراء کے طور پر یہ قاعدہ ہے، اس کے خلاف ایک مثال ہی بموجب شرائط پیش کرو۔جو یقین نا ممکن ہے۔(خادم) غیر احمدیوں کے عذر کا جواب محمدیہ پاکٹ بک از مولانا محمد عبداللہ صاحب معمار امرتسری صفحه ۵۴۶، ۵۴۷ مطبع المکتبه