مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 241
241 السلفیہ شیش محل روڈ لاہور پر جو سوفی کے معنے تفسیر بیضاوی اور تفسیر کبیر کے حوالہ سے التَّوَقِی اَخُذُ الشَّيْءِ وَافِيًا اور تَوَفَّيْتُ مِنْهُ دَرَاهِمِی مذکور ہیں۔ان ہر دو مثالوں میں تَوَفِّی کا مفعول ذی روح نہیں بلکہ پہلی مثال میں شیء اور دوسری میں درہم غیر ذی روح مفعول ہے مگر إذْ قَالَ اللهُ يُمِيْلى إلى مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي میں مفعول حضرت عیسی ذی روح ہیں۔براہین احمدیہ کے حوالہ کا جواب اسی طرح محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۵۱۵ پر براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۹ حاشیہ کے حوالہ سے جو ترجمہ آيت: إني مُتَوَفِّيْنك كا بدیں الفاظ درج کیا گیا ہے کہ میں تجھ کو پوری نعمت دوں گا۔وہ حجت نہیں کیونکہ اسی براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۵۷ پر انی متوفیک کا ترجمہ ”وفات دوں گا“ بھی درج ہے جو درست ہے۔” نعمت دوں گا‘ والا ترجمہ لائق استناد نہیں کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے کہ وہ ترجمہ مستند نہیں ہے۔ملاحظہ ہو۔فرماتے ہیں:۔الف۔یادر ہے کہ براہین احمدیہ میں جو کلمات الہیہ کا ترجمہ ہے وہ باعث قبل از وقت ہونے کے کسی جگہ مجمل ہے اور کسی جگہ معقولی رنگ کے لحاظ سے کوئی لفظ حقیقت سے پھیرا گیا ہے یعنی صرف عَنِ الظاھر کیا گیا ہے۔پڑھنے والوں کو چاہیے کہ کسی ایسی تاویل کی پروا نہ کریں (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ حاشیه صفحه ۹۳) ب :۔میں نے براہین احمدیہ میں غلطی سے توفی کے معنے ایک جگہ پورا دینے کے کئے ہیں جس کو بعض مولوی صاحبان بطور اعتراض پیش کیا کرتے ہیں مگر یہ امر جائے اعتراض نہیں۔میں مانتا ہوں کہ وہ میری غلطی ہے الہامی غلطی نہیں۔میں بشر ہوں اور بشریت کے عوارض مثلاً جیسا کہ سہو اور نسیان اور غلطی یہ تمام انسانوں کی طرح مجھ میں بھی ہیں گوئیں جانتا ہوں کہ کسی غلطی پر مجھے خدا تعالی قائم نہیں رکھتا مگر یہ دعوی نہیں کرتا کہ میں اپنے اجتہاد میں غلطی نہیں کر سکتا۔خدا کا الہام غلطی سے پاک ہوتا ہے مگر انسان م غلطی کا احتمال رکھتا ہے کیونکہ سہو و نسیان لازمه بشریت ہے۔“ کا کلام ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۲۷۱ ۲۷۲) ج۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ ایام الصلح کی عبارت میں تحریر فرمایا ہے وہ قرآن مجید و احادیث نبوی کے عین مطابق ہے کیونکہ یہی بات خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی ہے جیسا کہ فرمایا:۔