مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 231
231 چارسوال چکڑالویوں سے قرآن مجید کے علاوہ بھی وحی ہے اہل قرآن حضرات سے ہم قرآن مجید میں مندرجہ وحی الہی کے علاوہ کسی اور وحی کے ہونے کا ثبوت طلب کیا کرتے ہیں اور ان کا یہ دعوی ہے کہ تمام وحی الہی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ صرف قرآن مجید ہی ہے۔اس کے متعلق ہم ان سے مندرجہ ذیل چار سوالات کرتے ہیں :۔ا وَاذْ يَعِدُكُمُ اللهُ إِحْدَى الظَّابِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ (الانفال: ۸) یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کا وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ہے۔ہم پوچھتے ہیں کہ وہ وعدہ الہی جو مسلمانوں سے ہوا قرآن پاک میں کہیں درج ہے اگر درج ہے تو کہاں؟ اور اگر درج نہیں تو ماننا پڑے گا کہ ایسی وحی الہی بھی ہے جو قرآن کریم میں درج نہیں۔٢ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِيْنَةٍ أو تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أَصُولِهَا فَاذْنِ اللهِ (الحشر: 1) یعنی اے مسلمانو! تم نے جو کھجور کے تنے کالے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم ، کھڑا رہنے دیا یہ خدا کے ہی حکم سے تھا۔اب سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جو کھجور کے تنوں کو کاٹنے یا چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کا ذکر قباذن اللہ میں ہے کیا وہ قرآن میں درج ہے؟ اگر درج ہے تو کہاں ؟ اگر درج نہیں تو ثابت ہوا کہ ایسی وجی بھی ہے جو قرآن میں درج نہیں۔وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا فَلَمَّا نَبَّاتْ بِهِ وَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۚ فَلَمَّا نَبَّاهَا بِهِ قَالَتْ مَنْ أَنْبَاكَ هَذَا قَالَ نَباتِي الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ ( التحريم:۴) یعنی جب رسول کریم نے کوئی بھیدا اپنی بیوی کو بتایا تو اس نے راز فاش کر دیا۔خدا تعالیٰ نے آپ کو بھید کا فاش ہونا بتا دیا تو آپ نے بیوی سے پوچھا۔کچھ بات تو بتا دی اور کچھ چھپائی۔تو اس بیوی نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا۔آپ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت کو اس واقعہ کی خبر دی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ وہ اظہار الہی کیا قرآن میں ہے اگر ہے تو کہاں؟ اگر نہیں تو کیا ثابت نہیں ہوتا کہ ایسی وحی بھی ہے جو آنحضرت پر نازل ہوئی مگر قرآن میں درج نہیں۔