مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 226 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 226

226 یاد کرے اور اس کی آنکھ بنقدر پرمگس آنسو نکلے ، ثواب اس کا خدا پر ہے اور خدا اس کے لئے کسی ثواب پر راضی نہیں بغیر بہشت عطا کرنے کے “ تو اندریں صورت یزید کے انجام کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟ خود شیعہ ہی قاتلین امام حسین ہیں ناسخ التواریخ میں لکھا ہے کہ ابن زیاد دسپہ سالار لشکر یزید جس نے امام حسین کو شہید کیا ۸۰ ہزار کوفیوں پر مشتمل تھا۔ملاحظہ ہو: وابی مختف لا لشکر ابن زیاد را هشتاد ہزار سوار نگاشته و گوید همگاں گوفی بودند و حجازی و شامی با ایشاں نہ بود (ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب نمبر صفحه ۱۷۴) یعنی ابو مخنف نے ابن زیاد کا لشکر اسی ہزار بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ سب کے سب کو فی تھے۔ان میں نہ کوئی حجازی تھا اور نہ شامی۔۲۔فَتَكَمَّلَ الْعَسْكَرُ ثَمَانُونَ اَلْفَا فَارِسَ مِنْ اَهْلِ الْكُوفَةِ لَيْسَ شَامِيٌّ وَلَا حِجازی۔( مرقع کر بلا مطبوعہ ریاضی پریس امرو یه صفحه ۲۰) کہ ابن زیاد کا لشکر سب کا سب ۸۰ ہزار کوفی سواروں پر مشتمل تھا۔ان میں نہ کوئی شامی تھا نہ جازی۔اب دیکھئے اسی ابو مخفف کی دوسری روایت جس میں وہ کہتا ہے کہ امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کرنے والے ۸۰ ہزار کوفی تھے۔بروایت ابو مخنف هشتاد ہزارکس با مسلم بیعت کرد ( ناسخ التواریخ جلد ۶ کتاب ۲ صفحه ۱۳۳) ۳۔علامہ مجلسی تحریر فرماتے ہیں کہ کربلا میں جب وقت ظہر ہوا تو حضرت امام حسین اپنے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور ابن زیاد کے لشکر کے درمیان کھڑے ہو کر ابن زیاد کے لشکر کو مخاطب کر کے فرمایا۔اَيُّهَا النَّاسُ ! میں تمہاری طرف نہیں آیا مگر جب کہ تمہارے خطوط متواتر اور تمہارے قاصد پیاپے میرے پاس پہنچے۔تم نے لکھا کہ آپ ہمارے پاس تشریف لائیے کہ ہمارا امام و پیشوا کوئی نہیں ہے شاید خدا ہم کو اور آپ کو حق و ہدایت پر متفق کرے، اگر تم اپنے عہد و گفتار پر برقرار ہو تو مجھ سے پیمان تازہ کر کے دل میرا مطمئن کرو اور اگر اپنے گفتار سے پھر گئے ہوا اور عہد و پیمان کوشکستہ کر دیا ہے اور میرے آنے سے بیزار ہو میں اپنے وطن واپس جاتا ہوں۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۴ صفحه ۴۵۳)