مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 200 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 200

200۔اسی طرح تاریخ الخلفاء میں حضرت ابوبکر کے متعلق حضرت علی کی شہادت موجود ہے۔فَوَاللَّهِ مَا دَنَا مِنَّا اَحَدٌ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ شَاهِرًا بِالْسَّيْفِ عَلَىٰ رَأْسِ رَسُوْلِ اللَّهِ فَهُوَ أَشْجَعُ النَّاسِ ( تاريخ الخلفاء صفحہ ٣٧ للامام السيوطى اصبح المطابع آرام باغ کراچی ) کہ خدا کی قسم ! حضرت ابوبکر کے سوا اور کوئی ہم میں سے آنحضرت کے قریب نہیں ہوا۔حضرت ابوبکر تلوار سونت کر آنحضرت کے سر پر پہرہ دے رہے تھے۔پس آپ سب سے زیادہ شجاع تھے۔پس کتب اہل سنت سے اصحاب ثلاثہ کا جنگوں کے موقع پر ثابت قدم رہنا ثابت ہے۔اس لئے اہل سنت کے بالمقابل یہ طعن کوئی وقعت نہیں رکھتا۔باقی رہیں اہل شیعہ کی روایات۔سو وہ حجت نہیں؟ حضرت عمرؓ کا اپنے مردہ بیٹے کو کوڑے لگوانا اعتراض شیعہ :۔حضرت عمر نعوذ باللہ اس قدرسخت دل تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹے ابوشحمہ نامی کو شراب پینے کے مُجرم میں کوڑے لگوائے ، اور جب وہ کوڑوں کی مقررہ تعداد پورا ہونے سے پہلے مرگیا تو آپ نے اس کی لاش پر کوڑے لگوانے کا حکم دیا۔جواب :۔یہ روایت سراسر جعلی اور موضوع ہے:۔إِنَّ عُمَرَ أَقَامَ الْحَدِ عَلَى وَلَدٍ لَه يُكْنى اَبَا شَحُمَةَ بَعْدَ مَوْتِهِ فِي قِصَّةٍ طَوِيْلَةٍ مَوْضُوع - (فوائد المجموع في الاحادیث الموضوع - مصنف امام شوکانی مبع دار الکتاب العرب صفحه ۲۳۲) که حضرت عمر کے بارہ میں وہ طویل قصہ جس میں یہ کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے ایک بیٹے کو جس کی کنیت ابو محمد تھی اس کے مرجانے کے بعد بھی کوڑے لگوائے۔وضعی ہے۔باغ فدک اعتراض نمبر 1:۔حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ کو آنحضرت کے ترکہ سے کچھ نہ دیا۔حالانکہ حضرت ابو بکر کے لَا نَرث وَلَا نُورَث والی حدیث کے پیش کرنے پر حضرت فاطمہ نے قرآن کی آیت پیش کی له يُوصِيكُمُ اللهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ - (النساء : ١٢) جواب نمبر :۔حضرت ابوبکر صدیق نے ضد سے ایسا نہیں کیا کیونکہ انہوں نے آنحضرت سے حدیث سنی ہوئی تھی اور قرآن کریم کو آنحضرت ہی زیادہ سمجھتے تھے۔جواب نمبر ۲:۔اگر حضرت فاطمہ سے ضد تھی تو دیگر ازواج مطہرات اور خصوصاً اپنی لڑکی حضرت عائشہ کو