مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 129
129 ۵۔موسیٰ کے سلسلہ میں ابن مریم مسیح موعود تھا اور محمدی سلسلہ میں میں مسیح موعود ہوں سو میں اس کی عزت کرتا ہوں جس کا ہم نام ہوں اور مفسد اور مفتری ہے وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۱۸،۱۷)۔جس حالت میں مجھے دعوئی ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسی علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام کو برا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتلاتا ؟ کیونکہ اس سے تو خود میرا برا ہونا لازم آتا ہے۔“ ،، (اشتہار ۲۷ دسمبر ۱۸۹۸ء مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۲۵۷ حاشیه طبع بار دوم و تبلیغ رسالت جلدے صفحہ ۷۰ حاشیہ) ے۔”ہمارا جھگڑا اس یسوع کے ساتھ ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا ہے نہ اس برگزیدہ نبی کے ساتھ جس کا ذکر قرآن کی وحی نے مع تمام لوازم کے کیا ہے۔تبلیغ رسالت جلد ۶ صفحه ۳۲ و مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۳۹ طبع بار دوم ) - هذَا مَا كَتَبْنَا مِنَ الْأَنَاجِيلِ عَلَى سَبِيلِ الْإِلْزَامِ۔وَإِنَّا نُكَرِمُ الْمَسِيحَ وَ نَعْلَمُ إِنَّهُ كَانَ تَقِيًّا وَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ الْكِرَامِ۔“ ( البلاغ (ترغیب المومنین ) رحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۵۱ حاشیه ) و ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شان مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف (پادری) فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمتقابل ذکر کیا گیا ہے۔اور وہ بھی سخت مجبوری سے کیونکہ اس نادان ( پادری فتح مسیح) نے نہایت ہی شدت سے گالیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نکالی ہیں۔اور ہمارا دل کھایا ہے۔(نور القرآن نمبر ۲ (رساله فتح مسیح ) روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۷۶) ا۔ہم اس بچے مسیح کو مقدس اور بزرگ اور پاک جانتے اور مانتے ہیں جس نے نہ خدائی کا دعوی کیا نہ بیٹا ہونے کا۔اور جناب محمد مصطفی احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی خبر دی اور ان پر ایمان لایا۔( نور القرآن نمبر ۲ (رساله فتح مسیح ) روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۹۵) ا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ نیک انسان تھا اور نبی تھا مگر اسے خدا کہنا کفر ہے۔“ ( تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۹) تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحها او مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه و طبع بار دوم )